چین کے وزیر خارجہ ترکی کے دورے پر
چین کے وزیر خارجہ انقرہ کے دورے پر ہیں۔چین اور ترک وزیرخارجہ نے باہمی تعلقات میں توسیع لانے کی غرض سے مذاکرات کئے ہیں۔
چین کے وزیر خارجہ انقرہ کے دورے پر ہیں۔چین اور ترک وزیرخارجہ نے باہمی تعلقات میں توسیع لانے کی غرض سے مذاکرات کئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یئی اور ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے باہمی تعلقات اور تعاون میں توسیع لانے پر تاکید کی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ ازبکستان کا دورہ کرنے کے بعد اتوار کو ترکی پہنچے تھے۔
چینی وزیر خارجہ کے دورہ انقرہ کے نتائج کے بار ےمیں چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ چین اور ترکی نے دہشتگردی کے خلاف تعاون میں بڑھاوالانے کےلئے معاہدہ کیا ہے۔ بیجنگ سے ؛اسپوٹنیک؛ کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرا خارجہ نے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے اور عالمی امن و امان کی برقراری کے سلسلے میں اتفاق کیا ہے۔ چین اور ترکی کےسکیورٹی سمجھوتے سے دونوں ملکوں کے نزدیک اس کی ا ہمیت کا انداز ہوتا ہے۔ چین کے ساتھ ترکی کی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں سے قطع نظر دونوں ملکوں کے درمیاں فوجی اورخلائی شعبے کے امور میں وسیع پیمانے پر تعاون جاری ہے۔ بنیادی طور سے ترکی کے ہتھیار مغربی ہیں اس کے باوجود ترک حکام نے چین سے ہتھیار لینے پر ہمیشہ سے تاکید کی ہے۔ درحقیقت ترک حکام مغربی حکومتوں بالخصوص امریکہ پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی توانائی نہیں رکھتے اس وجہ سے یہ کوشش کرتے ہیں کہ چین کو اپنے طویل مدت اھداف کے لئے استعمال کریں دوسرے الفاظ میں چین سے ہتھیار خرید کر ان ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں، ا سکی ایک مثال یہ ہے کہ ترک حکومت نے دوہزار چودہ میں چین کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کی رو سے ترکی کے اینٹی میزائل سسٹم جو چین سے خریدے جائیں گے ان کا پچاس فیصد حصہ ترکی میں تیار کیا جائے گا۔ دراصل اس طرح سے ترکی کو میزائل بنانے اور سیٹلائیٹ لانچ کرنے کی ٹکنالوجی میں کچھ تجربے ہوجائیں گے اور وہ آئندہ برسوں میں سیٹلائٹ خلا میں بھیج سکے گا۔ ترک حکام نے دنیا کے ملکوں منجملہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار کرکے، چین کو ،مغربی ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کے ہتھنکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ گذشتہ برسوں سے ترک حکام نے چین سے ہتھیار خریدنے کا شوشہ چھوڑ کر مغربی ملکوں سے متعدد مراعات حاصل کی ہیں۔ مثال کے طور پر جب بھی چین سے ترکی کے ہتھیار خریدنے کی بات ہوتی ہے تو امریکہ اور نیٹو اس سلسلے میں اظہار تشویش کرنے لگتے ہیں اور ترکی کو مراعات دینے کی بات کرتے ہیں۔
چین اور ترکی کے درمیاں تجارت کی شرح دوہزار پندرہ میں سترہ ارب ڈالر سے پچاس ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انقرہ اور بیجنگ نے اپنی ساری توجہ اس بات پر مرکوز کررکھی ہے کہ ان کا تجارتی حجم دوہزار بیس تک ایک سو ارب ڈالر تک پہنچ جائے۔ ترکی اور چین نے اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارت کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے ضمنی طور پر اپنے مابین تجارت میں ڈالر کو استعمال نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مجموعی طور سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ چین کے ساتھ انقرہ کے تعلقات جتنے مستحکم ہونگے، مغربی ملکوں سے ان کے تعلقات میں اتنی ہی کمی آئے گی، اس کا برعکس بھی صادق آتا ہے اور وہ اس سے دیگر ملکوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں توازن برقرار کرنے کے وسیلے کے طور پر بھی کام لے سکتا ہے۔