شام میں دہشتگرد کیمیاوی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i258157-شام_میں_دہشتگرد_کیمیاوی_ہتھیار_استعمال_کر_رہے_ہیں
شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں نے حلب کے ایئر پورٹ کے قریب شامی فوج کے ٹھکانوں پر کیمیاوی گولے فائر کیے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۸ Asia/Tehran
  • شام میں دہشتگرد کیمیاوی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں

شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں نے حلب کے ایئر پورٹ کے قریب شامی فوج کے ٹھکانوں پر کیمیاوی گولے فائر کیے ہیں۔

شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں نے حلب کے ایئر پورٹ کے قریب شامی فوج کے ٹھکانوں پر کیمیاوی گولے فائر کیے ہیں۔ دہشتگردوں کے کیمیاوی حملوں میں تیس شامی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش اور دیگر مسلح گروہ شام کی فوج کے خلاف ممنوعہ کیمیاوی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ روس کی وزارت دفاع نے گذشتہ جمعہ کے دن کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے ادارے سے مطالبہ کیا تھا کہ حلب کے ایک محلے میں دہشتگرد گروہوں کی جانب سے استعمال ہونے والے کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں تحقیقات کرنے کے لئے ایک تحقیقاتی ٹیم روانہ کرے۔ کیمیاوی ہتھیاروں سے استفادہ کرنے سے دہشتگرد گروہ داعش کا ھدف و مقصد یہ ہے کہ خود کو مکمل شکست سے بچا لے اور شام کے شہریوں کے درمیاں زیادہ خوف و دہشت پیدا کرکے انہیں اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے۔

قانونی حلقوں نے شام میں سرگرم عمل مخالفین کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی جرائم انجام دینے کے لئے ان گروہوں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے اور وہ ہر طرح کی قانونی کارروائی سے بھی محفوظ ہیں۔ ایسے عالم میں دہشتگردوں کے حامی ممالک جیسے ترکی سعودی عرب اور قطر دہشتگردوں کی حمایت بند کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے دہشتگرد آسانی سے کیمیاوی ہتھیار حاصل کر سکتے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ دہشتگرد مغربی ملکوں  اور ان کے عرب اتحادیوں کی حمایت سے شام میں انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ان جرائم کا ذمہ دار شام کی حکومت کو ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں دہشتگردوں کے حامی شام میں اپنے پرفریب اقدامات کے ذریعے حقائق کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں اور ان کوششوں کے نتیجے میں کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے ادارے نے گیارہ نومبر کو ہیگ میں بعض رکن ملکوں کے اثر و رسوخ کے تحت شام کی حکومت کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔

یہ ایسے عالم میں ہے کہ دہشتگرد گروہ عالمی اداروں کی خاموشی کا سہارا لے کر شام میں عام شہریوں کو کیمیاوی ہتھیاروں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ شام کے حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت کا پلڑا اور حالات زیادہ سے زیادہ شام کی عوامی حکومت کے حق میں پلٹ رہے ہیں۔ شامی فوج اور عوامی رضا کار فورسز کی روزافزوں کامیابیوں کی بنا پر نئی نئی سازشیں اور پروپگینڈے بھی سامنے آ رہے ہیں۔

شام کے خلاف نئے سرے سے سناریو اور سازشیں تیار کیے جانے کے تناظر میں حالیہ دنوں میں مغربی ممالک اور ترکی سمیت ان کے علاقائی اتحادی جو دہشتگردوں کے حامی ہیں ایک بار پھر یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ شام کی فوج کیمیاوی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ شام کی حکومت کے خلاف یہ الزامات ایسے عالم میں لگائے جا رہے ہیں کہ جب بعض صحافتی حلقوں نے نئے دہشتگردانہ اقدامات بالخصوص کیمیاوی حملوں کے لئے دہشتگردوں کے حق میں مغربی ملکوں کی ہمہ گیر حمایت کے ثبوت و شواہد  پیش کرتے ہوئے اس سلسلے میں وارننگ دی تھی۔ شام کے صحافتی حلقوں کے مطابق شام کے خلاف دہشتگردوں کے حامیوں کے الزامات کا مقصد ایسا ماحول بنانا ہے کہ جس کے سہارے دہشتگرد کیمیاوی ہتھیار استعمال کر کے خود کو مکمل شکست سے بچا سکیں۔