دہشت گردی سے مقابلے میں افغان پاک تعاون پر تاکید
افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے دہشت گردی سے مقابلے میں افغانستان اور پاکستان کے تعاون پر تاکید کی ہے۔
عبداللہ عبداللہ نے افغانستان اور پاکستان کے پارلیمانی اور سول سوسائیٹیز کے مشترکہ وفد کے ساتھ ملاقات میں کابل اور اسلام آباد کے لئے انتہا پسندی کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے صرف افغانستان اور پاکستان کو ہی نہیں بلکہ علاقے کے تمام ممالک کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مفادات اس بات کے متقاضی ہیں کہ کابل اور اسلام آباد کو علاقائی ممالک کی حمایت سے دہشت گردی کا صادقانہ طور پر مقابلہ کرنا چاہئے۔
مذکورہ ملاقات میں عبداللہ عبداللہ کی طرف سے دہشت گردی سے مقابلے میں افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ تعاون کی ضررت پر تاکید سنہ 2001 میں جنگ افغانستان کے آغاز سے اب تک اسلام آباد سے کابل کا اہم ترین مطالبہ ہے۔ افغانستان میں قومی اتحاد حکومت کی تشکیل کے بعد انتہا پسندی سے مقابلے کے سلسلے میں مشترکہ تعاون کی راہیں تلاش کرنے کے لئے افغانستان اور پاکستان کے سیاسی اور فوجی عہدیداروں کی ملاقاتوں اور مذاکرات میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی، جو اس وقت افغانستان، پاکستان، علاقے اور پوری دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، تاریخی اختلافات کے باوجود انتہاپسندی سے مقابلے سے متعلق تعاون کی ضرورت کے بارے میں دونوں مملکوں کے ہم حیال ہونے کا سبب بنی ہے۔
افغانستان کے حکام کے مطابق اگر دہشت گردی سے مقابلے کے سلسلے میں مشترکہ تعاون نہیں کیا گیا تو کابل اور اسلام آباد اکیلے دہشت کردی پر غلبہ نہیں پاسکتے۔ ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتہا پسندی سے مقابلے کے لئے تعاون کی ضرورت کے بارے میں کابل اور اسلام آباد کی اعلانیہ پالیسی کے باوجود ابھی تک اس تعاون کے لئے کوئی واضح ڈھانچہ کیوں تشکیل نہیں دیا گیا ہے؟ افغانستان اور پاکستان کے درمیان وسیع اختلافات اور دونوں ملکوں کے مابین گزشتہ کئی عشروں سے جاری بے اعتمادی مشترکہ مفادات کے حصول کے سلسلے میں، جن میں دہشت گردی سے مقابلہ سب سے اہم ہے، دوجانبہ تعاون کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بے نتیجہ رہنے کی اہم ترین وجہ شمار ہوتے ہیں۔
ان حالات میں کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں انتہاپسندی سے مقابلے کے سلسلے میں مشترکہ تعاون کی راہیں تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں، اس سلسلے میں غیر سرکاری اور شہری گروپوں یا سول سوسائیٹیز کے کردار میں وسعت اور مشترکہ پارلیمانی وفود سمیت بعض سرکاری حلقوں کے ساتھ ان کے تعاون سے دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے دوجانبہ تعاون سے متعلق کابل اور اسلام آباد کے درمیان مفاہمت کی امید کی جاسکتی ہے۔
غیر سرکاری اور سول سوسائیٹیز، خاص طور سے ایسے حالات میں کہ افغانستان اور پاکستان کے حکام بعض اوقات ایک دوسرے پر دہشت گردی کی حمایت اور اس سلسلے میں غیر شفاف رویہ کا الزام لگاتے ہیں، اس کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ افغانستان کے نائب صدر جنرل عبدالرشید دوستم کی کچھ عرصہ پہلے کی ایک تقریر میں افغانستان میں پیدا ہونے والی بدامنی میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر کے کردار پر مشتمل باتیں کابل اور اسلام آباد کے درمیان پائی جانے والی بے اعتمادی کی مصادیق میں شامل ہیں جو دہشت گردی سے مقابلے کے سلسلے میں تعاون کے لئے حتمی مفاہمت کے حصول کو ناکام بناتی ہیں۔
بنابریں، دہشت گردی سے مقابلے میں تعاون کے سلسلے میں اعتماد سازی کی غرض سے افغانستان اور پاکستان کے لئے شاید سب سے اہم اقدام انتہا پسندی سے مقابلے کے سلسلے میں دہرے رویہ اور دہشت گردی کی حمایت سمیت مختلف الزامات عائد کرنے سے پرہیز کرنا ہے کیونکہ یہی امر حالیہ برسوں میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات گہرے ہونے کا واحد سبب رہا ہے۔