امریکی عوام میں اپنی حکومتوں سے ناراضگی میں اضافہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i259186-امریکی_عوام_میں_اپنی_حکومتوں_سے_ناراضگی_میں_اضافہ
گیلپ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقات کے مطابق امریکی عوام میں ملک کی صورتحال سے بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۲, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۸ Asia/Tehran
  • امریکی عوام میں اپنی حکومتوں سے ناراضگی میں اضافہ

گیلپ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقات کے مطابق امریکی عوام میں ملک کی صورتحال سے بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔

 گیلپ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ میں تہتر فیصد شہیریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات سے راضی نہیں ہیں۔ ان اعداد و شمار میں گذشتہ مہینے سے دس فیصد کا ا ضافہ ہوا ہے۔ ان اعدادا و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دس امریکیوں میں سے تین لوگوں سے کم لوگ موجودہ حالات سے راضی ہیں۔امریکہ میں آٹھ نومبر کو ہونے والے حالیہ انتخابات سے پہلے صرف سینتیں فیصد لوگ اپنے ملک کے حکام کی کارکردگی سے راضی تھے لیکن جب سے ڈونالڈ ٹرمپ کو حالیہ صدارتی انتخابات میں کامیابی ملی ہے عوامی کی رضایت کی شرح میں کافی کمی آئی ہے۔

امریکہ میں حکومتوں سے ناراضگی کوئی حالیہ صدارتی انتخابات سے مخصوص نہیں ہے بلکہ امریکہ میں نامناسب اقتصادی صورتحال بالخصوص روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں حکومت کی ناکامی اور نوکری گنوا بیٹھنے کا خوف، عوام کی دیرینہ ناراضگی میں دخیل رہا ہے۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں بے روزگاری صرف پانچ فیصد ہے لیکن آزاد تحقیقات سے  پتہ چلتا ہے کہ یہ شرح دوگنی ہے، اس کے علاوہ خواتین،جوانوں، اور ادھیڑ عمر کے لوگوں نیز سیاہ فاموں اور رنگین فاموں کے درمیان بے روزگاری زیادہ ہے جس سے امریکی عوام میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل اور صوبائی حکومتوں کی مالی مشکلات نیز بہت سے رفاہی پروگراموں جیسے بے روزگاری کا بھتہ دینا، سستے علاج معالجے کا بیمہ دینا، غذا کے کوپن دینا اور طلباء کو کم سود پر قرضے دینا یہ ساری چیزیں متوسط اور غریب گھرانوں کو ٹیکس کے بوجھ تلے دبارہی ہیں۔ یہ لوگ بے روزگاری اور مہنگائی سے پریشان ہیں اور انہیں حکومت کے رفاہی پروگراموں میں کمی کا بھی سامنا ہے۔

امریکہ میں اقتصادی اور معاشی مشکلات کے پیش نظر سماجی مسائل کی بنا پر بھی لوگ اپنی حکومت سے ناراض  ہیں۔ حالیہ برسوں میں امریکہ میں نسلی بردباری اور صبر و ضبط میں کافی کمی آئی ہے۔ ایک طرف سے سفید فاموں کو یہ خدشہ لاحق ہےکہ کہیں سیاہ فام اور رنگین فام اور تارکین وطن اور ان کی اولاد امریکہ کی سیاست اور معیشت پر قبضہ نہ کرلیں تو دوسری طرف سے رنگین فام اور تارکین وطن کی اولادوں کو شدید نسل پرستی سے بے حد تشویش لاحق ہے ۔اس درمیان امریکی پولیس سیاہ فام جوانوں پر گولیاں برسا کر انہیں قتل کردیتی ہے جس سے مزید ناراضگی بڑھ رہی ہے اور نسل پرستی کے حوالے سے تشویش میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ان مسائل  نے اقتصادی مسائل کے ہمراہ امریکین ڈریم کو چکنا چور کردیا ہے۔

امریکہ میں ان مسائل کے علاوہ سیاسی نظام کا ناکارہ ہونا بھی اس کی ایک وجہ ہے جو عوام کی سماجی مشکلات حل نہیں کرسکتا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اھل ثروت و اقتدار اور سیاست دانوں میں کرپشن اور جوڑ توڑ بھی عوام کی بھرپور ناراضگی کا باعث بنا ہے۔ ان امور سے عوام کی ناراضگی اس حد تک آگے بڑھ گئی تھی کہ امریکہ میں عام طور سے چپ رہنے والے شہریوں نے اس مرتبہ اس شخص کو ووٹ دیا ہے جس نے روایتی مروجہ سیاسی اور اقتصادی نظام کو شدیدترین الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔ ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی نامزد ڈونالڈ ٹرمپ نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوام کی شدید ناراضگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تا کہ امریکی معاشرے میں تبدیلیاں لاسکیں۔ البتہ اس مرتبہ کے الیکشن اور اسکے نتائج نے عوام کی ناراضگی میں کافی اضافہ کیا ہے۔ امریکہ کے بہت سے شہریوں کو ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں سے کافی تشویش لاحق ہے ان میں غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالنا اور امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی لگانا شامل ہیں۔ امریکہ میں اقلیت کے ووٹوں سے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی عوام اپنے ملک کے حالات سے راضی نہیں ہیں۔