پاکستان کے خلاف افغانستان کا احتجاج
چمن بارڈر پر پاکستان کے فوجی اقدامات کو حکومت افغانستان کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کابل نے اسے نامناسب اور اشتعال انگیزی سے تعبیر کیا ہے۔
افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے پاکستانی فوج کی جانب سے فرضی ڈیورنڈ لائن پر اپنا جھنڈا گاڑنے اور وہاں خصوصی فوجی تقریب کے انعقاد جیسے اقدامات کو فریقین کے ماضی کے معاہدوں کے برخلاف قرار دیا ہے اور حکومت پاکستان کو اس علاقے میں ہر طرح کے اشتعال انگیز اقدام سے اجتناب کرنے کی صلاح دی ہے- فرضی ڈیورنڈ لائن پر بارہ دسمبر اٹھارہ سو ترانوے میں برطانوی سامراجی دور میں مارٹیمر ڈیورنڈ اور ہندوستان و افغانستان کے اس وقت کے حکمرانوں کے درمیان دستخط ہوئے تھے اورپاکستان و افغانستان کے درمیان دو ہزار چار سو تیس کلومیٹر طویل سرحدی لائن کا تعین ہوا تھا- ہندوستان کی آزادی اور برصغیر ہند کی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد حکومت افغانستان نے اس سرحدی لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اعلان کیا کہ یہ سرحدی لائن مستقل نہیں ہے بلکہ صرف سو برسوں تک کے لئے معتبر تھی جبکہ پاکستان فرضی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ افغانستان کو اسے قبول کرنے پر مجبور کرے- امریکہ اور مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پاکستان کے اس موقف کی تائید کا رجحان اس بات کا باعث بنا ہے کہ حکومت اسلام آباد کو فرضی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کئے جانے کا مطالبہ پورا ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے تاہم اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں کشیدگی، اس بات کا باعث بنی ہے کہ حکومت پاکستان اس سلسلے میں دوسرے اقدامات پر بھی توجہ دے اور بتدریج فرضی ڈیورنڈ لائن کو افغانستان کے ساتھ اپنی بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کر دے- اس علاقے میں حصار کھینچنا اور خاردارتار لگانا ان ہی کوششوں کا حصہ ہے جس پر افغانستان کی بارڈرسیکورٹی فورس، حکومت اور پارلیمنٹ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے- اس وقت حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ فرضی ڈیورنڈ لائن کے اطراف میں رہنے والے اس ملک کے شہریوں کو افغانستان جانے کے لئے ویزا لینا پڑے گا کہ جس کی حکومت افغانستان نے شدید مخالفت کی ہے- حکومت افغانستان کا خیال ہے کہ افغانستان کے سفر کے لئے فرضی ڈیورنڈ لائن کے دوسری جانب کے لوگوں کے لئے ویزا لینے پر مجبور کرنے کی اسلام آباد کی کوشش کا مقصد، سرحدی لائن کے دونوں جانب کے پشتونوں کو جدا کرنا اور اسے بین الاقوامی سرحد کے طورپر تسلیم کرانا ہے- فوجی پریڈ کے انعقاد اور جھنڈا گاڑنے کے اقدام کو بھی حکومت اسلام آباد کے فیصلے کو مستحکم کرنے کے اقدام سے تعبیر کیا جا رہا ہے- فرضی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنا بھی افغانستان میں ایک قومی مسئلہ ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فرضی ڈیورنڈ لائن، افغانستان میں واحد ایسا مسئلہ ہے جسے اس ملک کی تمام نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد، قومی چیلنج کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- کیونکہ سو برسوں کے دوران افغانستان کی کوئی بھی حکومت ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے کے لئے پاکستان کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکی ہے حتی طالبان کی حکومت بھی جو افغانستان میں اسلام آباد کی آلہ کار سمجھی جاتی تھی اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی درخواست کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی- یہ موضوع کئی لحاظ سے قابل توجہ اور قابل غور ہے- پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی، افغانستان میں حتی پختونوں کے درمیان بھی کوئی جگہ نہیں ہے اور اسے قابض کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے- دوسرے یہ کہ افغانستان کا کوئی بھی نسلی اور مذہبی گروہ اپنے ملک کی ایک بالشت زمین سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ جو بھی نسلی اور مذہبی گروہ، فرضی ڈیورنڈ لائن سے پیچھے ہٹے گا اسے تاریخی لحاظ سے افغان عوام اور آئندہ نسلوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا- اسی بنا پر فرضی ڈیورنڈ لائن پر کسی بھی طرح کے اشتعال انگیز اقدامات سے اجتناب کے سلسلے میں پاکستان کو افغانستان کے انتباہ کو اسلام آباد سنجیدگی سے لے رہا ہے- یہی وجہ ہے کہ حکومت اسلام آباد، فرضی ڈیورنڈ لائن کے مسئلے کے سلسلے میں احتیاط سے کام لیتی ہے اور اسے امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کے تناظر میں وہ افغانستان کو ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گی-