دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بجائے عملی اقدام کی ضرورت
عراق کے شہر حلہ میں دہشت گردانہ دھماکے نے، کہ جس کی دنیا کے مختلف ممالک نے شدید مذمت بھی کی ہے، ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کے عالمی خطرے سے نمٹنے کے لئے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ لگانے کے بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
چوبیس نومبر کو عراق کے صوبہ بابل کے صدر مقام حلہ کے الشوملی علاقے میں ہونے والے دہشت گردانہ دھماکے میں سو سے زیادہ افراد شہید اور دسیوں زخمی ہو گئے جبکہ دہشت گرد گروہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے- اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دنیا کے مختلف ممالک نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی اور داعش کے خلاف جنگ پر تاکید کی ہے- گذشتہ ایک برس کے دوران رونما ہونے والے واقعات پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف مشرق وسطی سے مختص نہیں ہے بلکہ دہشت گردی، کسی بھی طرح کی حد و حدود اور سرحدوں کو نہیں پہچانتی اور ایک عالمی خطرہ بن چکی ہے- فرانس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے، مصر کے فضائی حدود میں روس کے مسافر بردار طیارے کا گرنا، بحیرہ روم پر مصری مسافر بردار طیارے کا گرنا اور امریکہ کے شہر اورلینڈو میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ، دہشت گردی کے خطرے کے عالمی شکل اختیار کر جانے کے واضح ثبوت ہیں- دوسرے لفظوں میں دہشت گرد گروہوں نے گذشتہ ایک برس میں براعظم ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ میں اپنی دھمکیوں کو عملی کر دکھایا ہے- افسوس یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ دہشت گردی، ایک عالمی خطرہ بن چکی ہے، تاہم دنیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے عملی ایجنڈے میں شامل نہیں کیا ہے اور مغربی ممالک صرف بیانات کی حد تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بات کرتے ہیں- ایسے عالم میں کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران، روس، عراق اور شام نے گذشتہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے اور اس کی وہ بھاری قیمت بھی چکا رہے ہیں، مغربی طاقتیں صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ لگاتی ہیں اور عملی طور پر وہ دہشت گردوں کو اچھے اور برے میں تقسیم کرکے اپنی نظر میں اچھے دہشت گردوں کی سیاسی، اسلحہ جاتی، صحافتی اور مالی حمایت کر رہی ہیں- جب امریکہ اور یورپی ممالک کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں شدت آگئی اور حملوں کی تعداد بڑھ گئی صرف اس وقت یہ محسوس ہوا کہ مغربی طاقتیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں پرعزم ہیں لیکن جیسے ہی یہ دہشت گردانہ حملے کم ہوئے اس وقت پھر واضح ہو گیا کہ ابھی ان کے اندر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے سنجیدہ عزم پیدا نہیں ہوا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ جیسا واقعہ، عراق کے شہر حلہ میں پیش آیا کہ جس نے سیکڑوں بے گناہ انسانوں کی جان لے لی، امریکہ اور یورپ میں بھی پیش آسکتا ہے- دہشت گرد گروہوں نے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے پہلے ایک بار پھر امریکی عوام کے بیچ بم دھماکے کی دھمکی دے کر اس ملک میں خوف و وحشت کا ماحول پیدا کر دیا تھا- اس وقت جب داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف عراق کی بھرپور جنگ اور شام میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اس ملک کی فوج کو روسی فضائیہ کی حمایت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی، مشیروں کی سطح پر مدد کے باعث دہشت گرد گروہ پسپائی اختیار کرنے لگے ہیں، دہشت گرد گروہوں کے سلسلے میں مغربی ممالک کی اسٹریٹیجی میں تبدیلی، ان گروہوں کے کمزور ہونے کا عمل تیز کرسکتی ہے- مغربی ممالک اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ نہ بھی لیں اور صرف ان کی اسلحہ جاتی مدد ہی روک دیں اور انسانی حقوق کی آڑ میں عراق و شام میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے عمل میں رکاوٹ پیدا نہ کریں تو بھی ان گروہوں کو ختم کرنا کہ جو دنیا بھر کے انسانوں کی سلامتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، ناممکن نہیں ہے-