شام کی حکومت مذاکرات پر یقین
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i259882-شام_کی_حکومت_مذاکرات_پر_یقین
شام کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف آہنی مکے کی پالیسی کے ساتھ ساتھ سیاسی طریقوں پر بھی یقین رکھتی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۸ Asia/Tehran

شام کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف آہنی مکے کی پالیسی کے ساتھ ساتھ سیاسی طریقوں پر بھی یقین رکھتی ہے۔

شام کی حکومت مذاکرات پر یقین  

دہشتگردوں کے خلاف شام کی حکومت کی کامیابیوں اور اسکی پوزیشن مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ، پرامن طریقے سے شام کے بحران کو حل کرنے کی غرض سے دمشق کی فعال سفارتکاری جاری ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دمشق اپنے ملک کے بحران کی راہ حل دہشتگردی سے مقابلہ کرنے اور سیاسی طریقوں میں دیکھتی ہے۔اسی تناظر میں دمشق میں ایک نشست ہوئی ہے جس میں شام کے داخلی گروہوں، پارٹیوں کے نمائندے اور حکومت کے مخالف گروہ اور خود مختار شخصیتوں نے شرکت کی۔ یہ نشست دمشق ٹریبیوں کے نام سے منعقد ہوئی۔ اس میں سیاسی طریقوں سے شام کا بحران حل کرنے کے لئے ایک ہمہ گیر ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے۔اسی طرح شام میں داخلی مذاکرات کی اہمیت کے بارے میں،  قومی مصالحت اور وسیع البنیاد کانفرنس منعقد کرانے کہ جس میں داخلی اور بیرون ملک مخالفین ساتھ بیٹھ کر تبادلہ خیال کریں غور کیا گیا۔ یہ کوششیں ایسے عالم میں شروع ہوئی ہیں کہ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے استفان دی میستورا داخلی سطح پر قومی مصالحت کرانے کے طریقوں کے برخلاف شام کے مختلف علاقوں میں ناکام رہے ہیں۔ شام کے حکام کے مطابق دی میستورا نے غیر جانبدارانہ موقف اپنانے کے بجائے ہمیشہ خاص تجویزوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے حالات میں شام کی حکومت مذاکرات کو بحران کے حل کرنےکی بہترین راہ حل سمجھتی ہے اور تاکید کرتی ہے کہ ہر طرح کی بات چیت جو حکومت اور مخالفین کے درمیاں انجام پائے اس سے شام کو قومی مفادات حاصل ہونے چاہیں۔

دمشق کی نشست میں شرکت کرنے والے گروہ اور پارٹیاں بھی اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ حکومت دمشق قومی مذاکرات میں سنجیدہ ہے اور حکومت دمشق نے ایسے عالم میں جبکہ اس کے خلاف دہشتگردوں نے جنگ چھیڑ رکھی ہے مختلف گروہوں کے مذاکرات اور بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے۔ شام کے حکام اسی طرح شامی عوام کے مطالبات پر عمل کررہے خاص طور سے سیاسی میدان سمیت تمام میدانوں میں ترقی کرنے پر ان کی نظر ہے ۔ شام کی حکومت اس کے ساتھ ساتھ شورشیوں اور دہشتگردوں کے ساتھ سختی سے پیش آکر اپنےشہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی کوشش کررہی ہے۔

شام میں دہشتگرد گروہوں نے مارچ دوہزار گیارہ سے ترکی، قطر، سعودی عرب،امریکہ اور صیہونی حکومت اور بعض یورپی حکومتوں کی حمایت سے بدامنی پھیلا رکھی ہے اور عوام اور سکیورٹی فورسز کا قتل عام کرکے شام کی حکومت کو بدامنی کا سبب قراردے رہے ہیں اور اس بہانے بیرونی مداخلت کی زمیں ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں شام کی قوم، حکومت اور فوج کی دلیرانہ استقامت سے دشمن اور اس کے پٹھووں کے سارے حساب کتاب غلط ثابت ہوئے ہیں اور وہ شام پر تسلط حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

شام کے حکام کے موقف اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے دہشتگردوں اور تخریب کاروں کے مقابلے میں جنہوں نے شام کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کررکھا ہے آہنی مکے کی پالیسی اپنانے کے ساتھ ساتھ ساز گار سیاسی فضا وجود میں لانے کی بھی کوشش کررہی ہے تا کہ بحران کا حل نکالا جاسکے۔شام کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کے بحران کے حل کی واحد راہ تشدد کا خاتمہ اور سیاسی مذاکرات ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر پیش کیا گیا کوئی بھی راہ حل سیاسی طریقوں نیز داخلی گروہوں کی محوریت پر ہونا چاہیے۔ دمشق کی نشست شام کے تمام باشندوں اور عالمی برادری کو یہی پیغام دیتی ہے۔