امریکی لڑاکا طیارے اور اسرائیلی جنگ پسندی
اسرائیل کی جنگی کابینہ نے امریکہ سے مزید سترہ ایف 35 جنگی طیارے خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جدید امریکی جنگی سازوسامان خریدے جانے کا جائزہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے تناظر میں لیا جاسکتا ہے۔
اگرچہ باراک اوباما کی حکومت کے اسرائیل کے ساتھ بعض علاقائی مسائل کے بارے میں اختلافات تھے لیکن اوباما حکومت نے بھی اسرائیل کو امریکہ کے فوجی ہتھیاروں سے لیس کرنے کے سلسلے میں اہم قدم اٹھائے۔
باراک اوباما کی حکومت نے اسرائیل کی فوجی مدد کے سلسلے میں جو آخری اقدام انجام دیا وہ یہ ہے کہ اس نے آئندہ دس برسوں کے دوران اسرائیل کو اڑتیس ارب ڈالر کی فوجی مدد کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ یہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی سب سے بڑی فوجی مدد شمار ہوتی ہے۔
امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج واضح ہونے کے بعد صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کا بہترین دوست قرار دیا ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے لئے یہ الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں کیونکہ ٹرمپ کا داماد ایک یہودی شخص ہے۔
نیتن یاہو کی کابینہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ سترہ عدد ایف 35 جنگی طیاروں کی خریداری کے منصوبے کی منظوری سے امریکہ کی آئندہ حکومت کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہوجائیں گے۔ صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو سب سے زیادہ رائے عامہ کی توجہ اس جانب مبذول کرنے کے لئے کوشاں ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر بہت خوش ہیں اور ٹرمپ ہلیری کلنٹن سے زیادہ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی امریکہ کے دوسرے صدور کی طرح اسرائیل کی حمایت کو مدنظر رکھیں گے لیکن امریکہ کے نئے صدر کی شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی بلیک بکس کی طرح ہوگی۔
اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے، کہ نیتن یاہو کا نئے جنگی طیارے خریدنے کا کیا مقصد ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے بارے میں کیا رویہ اختیار کریں گے، اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے فوجی تعلقات دوسری ہر چیز سے زیادہ اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ واشنگٹن تل ابیب کے تمام جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
واشنگٹن ایسی حالت میں اسرائیل کے ہاتھ جدید جنگی طیارے فروخت کر رہا ہے کہ جب اسرائیل کے جرائم سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی اقوام متحدہ کے بعض حکام کی جانب سے فلسطینی عوام پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے مظالم کے بارے میں ظاہر کی جانےوالی تشویش کو ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ڈپٹی اسٹیفن اوبرائن نے تیئیس نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مغربی کنارے میں صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی زمینیں ہتھیانے کے عمل میں شدت آنے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی سرزمینوں کے انہدام اور ان کے ہتھیانے کا عمل سنہ دو ہزار پندرہ کی نسبت دگنا ہوگیا ہے۔ مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نیکلائے ملادینوف نے بھی مغربی کنارے میں نئی صیہونی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے اس حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو بند کرے۔
اب صیہونی حکومت کے لئے امریکہ کی فوجی مدد میں اضافہ درحقیقت اس حکومت کو اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے سلسلے میں امریکہ کی جانب سے دیئے جانے والے گرین سگنل کے مترادف ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہےکہ امریکہ انسانی حقوق کا دعویدار ہونے کے باوجود فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم میں برابر کا شریک ہے۔