چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں
شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقیں منگل کے روز سے چین کے مسلمان آبادی والے علاقے سین کیانگ میں شروع ہو گئیں۔
ان چھے روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا بتایا گیا ہے۔ اس بارے میں روس کے مرکزی علاقے کے ڈپٹی فوجی کمانڈر یراسلاف راشوپکین نے کہا ہے کہ یہ فوجی مشقیں پہاڑی علاقوں میں انجام دی جا رہی ہیں جن کا مقصد جنگی فنون میں مکمل مہارت حاصل کرنا ہے اور فوجیوں کی کارکردگی اور ان کی تربیتی سطح کا اندازہ لگانا ہے۔ دو ہزار ایک میں ازبکستان کی شمولیت سے، جب سے شنگھائی گروپ کا نام شنگھائی تعاون تنظیم رکھا گیا ہے، اس تنظیم کے بعض رکن ملکوں کی جانب سے دو طرفہ طور پر فوجی مشقیں انجام پاتی رہی ہیں جن میں گذشتہ برسوں کے دوران روس اور چین کی مشترکہ فوجی مشقوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ آمادگی و فوجی توانائی بڑھانے کے لئے چین اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر رکن ملکوں کے درمیان بھی فوجی مشقیں ہوتی رہی ہیں۔ البتہ اس تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان پہلی مشترکہ فوجی مشقیں، دو ہزار تین میں دو مرحلوں میں چین اور قزاقستان میں ہوئیں جن میں ازبکستان کو چھوڑ کر باقی پانچ رکن ملکوں نے شرکت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی تشکیل کے ساتھ اس تنظیم کے رکن ملکوں خاص طور سے روس اور چین نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے اہم قدم اٹھایا ہے جس کے تحت سیکورٹی سمجھوتے طے کر کے رکن ملکوں کی سرحدوں کے تعین کے ساتھ ان ملکوں کو قابل ذکر حد تک سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم ایسی صورت میں تشکیل پائی کہ جب روس اور چین نے امریکہ کے ایک قطبی اور خاص طور سے نیٹو کی جغرافیائی سرحدوں کے مشرق کی طرف پھیلاؤ کو اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے لئے خطرہ محسوس کیا۔ اس کے بعد اس تنظیم نے فوجی اور سیکورٹی کے اعتبار سے اپنا راستہ طے کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا ایک اہم مقصد، دہشت گردی اور انتہا پسندی نیز منشیات کی اسمگلنگ کا مقابلہ کرنا ہے جو زیادہ تر افغانستان سے سین کیانگ اور اس تنظیم میں شامل مختلف ملکوں میں ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم کے رکن ملکوں نے نہ صرف سیکورٹی معاہدوں پر دستخط نہیں کئے بلکہ انھوں نے اس بات کو بھی سمجھا کہ موت کے سوداگروں کے خلاف مہم میں فوجی طور پر مکمل سرگرم عمل ہونے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کا حصول رکن ملکوں میں مشترکہ فوجی مشقوں کے مسلسل انعقاد سے ممکن بھی ہے۔ البتہ شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر محرکات میں سلامتی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ رکن ملکوں کے درمیان تجارت اور ان کی اقتصادی منڈی کو رونق بخشنا بھی شامل ہے جس میں غربت کے خلاف مہم، بے روزگاری کا خاتمہ اور تشدد و انتہا پسندی کا قلع قمع کرنا بھی شامل ہے۔ اسی مقصد کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی سے متعلق ایک بینک کا قیام بھی اس تنظیم کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم، دنیا کے بیس فیصد تیل کے ذخائر اور پچاس فیصد گیس کے ذخائر کی حامل ہے اور اس کی یہی توانائی اس بات کا باعث بنی ہے کہ یہ تنظیم علاقائی و عالمی حالات کے تحت اپنی ضروریات کے مطابق فوجی تیاریاں کر کے اپنی راہ کو آگے بھی جاری رکھے۔