ہندوستان میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا انعقاد
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i260932-ہندوستان_میں_ہارٹ_آف_ایشیاء_کانفرنس_کا_انعقاد
افغانستان میں قیام امن سے متعلق چھٹی بین الاقوامی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سنیچر کو ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے شہر امرتسر میں شروع ہوئی تھی جو آج اختتام پذیر ہوجائے گی- اس کانفرنس میں دنیا کے تیس سے زیادہ ملکوں اور علاقائی و عالمی اداروں نے شرکت کی-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۲:۳۱ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا انعقاد

افغانستان میں قیام امن سے متعلق چھٹی بین الاقوامی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سنیچر کو ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے شہر امرتسر میں شروع ہوئی تھی جو آج اختتام پذیر ہوجائے گی- اس کانفرنس میں دنیا کے تیس سے زیادہ ملکوں اور علاقائی و عالمی اداروں نے شرکت کی-

 ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کو افغانستان میں امن ، ترقی اور پیشرفت میں اصلی رکاوٹ قرار دیا- انھوں نے کہا کہ نئی دہلی ایک پرامن علاقے کا خواہاں ہے اور ہم سب کو متحد ہو کر افغانستان کو پرامن علاقے میں تبدیل کردینا چاہئے- ہندوستانی وزیرا‏عظم نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات میں انھیں یقین دلایا کہ ہندوستان افغانستان میں قیام امن اور سیکورٹی کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا- انھوں نے ایک بار پھر حکومت افغانستان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس جنگ زدہ ملک کو پیشرفت و ترقی ،فلاح و بہبود اور کامیابی کی جانب لے جانا چاہئے- افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اس اجلاس میں تمام ملکوں سے اپیل کی کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام اور جنگ کے خاتمے کی کوشش کریں - افغانستان کے صدر نے اپنے ملک کی خراب صورت حال کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ دہشت گرد گروہ، اس ملک میں اپنا فوجی اڈہ قائم کرنا چاہتے ہیں- دوہزار ایک سے اب تک ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے علاوہ اب تک افغانستان کے بارے میں دس سے زیادہ دوسری کانفرنسیں بھی منعقد ہوچکی ہیں لیکن اس ملک کو ان کانفرنسوں کے شرکاء کے وعدوں سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں پہنچا ہے- افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی چھیڑی ہوئی جنگ کو پندرہ سال سے زیادہ کا عرصہ گذرچکا ہے اور اس دوران  افغان عوام کو امید رہی ہے کہ افغانستان کے مسائل و مشکلات کے حل میں مدد اور سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں بین الاقوامی کانفرنسیں موثرثابت ہوں گی تاہم افغانستان کے بارے میں مختلف عناوین سے تقریبا دس سے زیادہ بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد کے باوجود ، ان کانفرنسوں میں مدد کے اکثر وعدوں پر عمل نہیں ہوا ہے- اس بات کے پیش نظر کہ افغانستان سے متعلق ہونے والی کانفرنسوں کا اصلی مقصد ایک بحران زدہ ملک کی مدد کے لئے بین الاقوامی تعاون کرنا رہا ہے تاہم کابل حکومت کی مدد کا وعدہ کرنے والے ممالک اور اداروں کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضمانت کے لئے کسی طریقہ کار کا تعین ممکن نہیں ہے- اور اسی بنا پر افغانستان کے بارے میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاسوں کے شرکاء خاص طور پر مغربی ممالک کہ جو پروپیگنڈے کے لئے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں اپنے وعدوں کے زیادہ پابند نہیں رہے ہیں- ہندوستان  کی میزبانی میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس (2016)  کا انعقاد سیاسی خصوصیات کا بھی حامل ہوسکتا ہے- ہندوستان کو کہ جو پاکستان کو علاقے خاص طور سے افغانستان میں اپنا حریف سمجھتا ہے امید ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی میزبانی افغانستان کی تعمیرنو میں ہندوستانی کمپنیوں کی موجودگی اور اثر و نفوذ بڑھنے اور سرانجام کابل و نئی دہلی کے درمیان سیاسی یکجہتی میں توسیع کا باعث ہوسکتی ہے- ہندوستان کہ جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا بھی دعوے دار ہے افغانستان سمیت علاقائی و عالمی تنازعات کے حل میں مدد کر کے اپنے لئے خاص پوزیشن اور مقام حاصل کرنا چاہتا ہے- ہندوستان میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے انعقاد نے اس کانفرنس کو کم سے کم علاقائی سطح پر سیاسی و صحافتی حلقوں کے لئے باعث توجہ بنا دیا ہے-