تائیوان کے صدر سے ٹرمپ کی گفتگو
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i260968-تائیوان_کے_صدر_سے_ٹرمپ_کی_گفتگو
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ماضی کی روایات کو توڑتے ہوئے تائیوان کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس پر چین کے صدر سیخ پا ہوگئے ہیں-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۸ Asia/Tehran
  • تائیوان کے صدر سے ٹرمپ کی گفتگو

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ماضی کی روایات کو توڑتے ہوئے تائیوان کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس پر چین کے صدر سیخ پا ہوگئے ہیں-

اس سلسلے میں سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرامپ نے اپنے اسلاف کے برخلاف ایک غیرمتوقع اقدام میں جزیرہ تایئوان کی صدر تسای اینگ ون سے ٹیلی فون پر بات چیت کی- اس طرح ڈونالڈ ٹرمپ نے جو امریکہ کے پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے جلد ہی وہائٹ ہاؤس میں پہنچ جائیں گے ، ایک تاریخی روایت کو توڑا ہے - حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے ستر کے عشرے کے ابتدائی برسوں سے ہی بیجنگ کی مرکزیت میں متحدہ چین کو تسلیم کرنے کے ساتھ ہی تائیوان کے ساتھ غیرروایتی تعلقات رکھنے کا فیصلہ کیا- انیس سو بہتر ، انیس سو اٹھتر اور انیس سو ستاسی کے دوران بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تین اعلامیوں پر دستخط ہوئے جن کے مطابق امریکہ ، خود کو بیجنگ کی مرکزیت میں متحدہ چین کی پالیسی کا پابند سمجھتا ہے اور تائیوان کے ہاتھوں کسی بھی قسم کا ہتھیار بیچنے سے اجتناب کرتا ہے جبکہ غیرسفارتی تناظر میں اس کے ساتھ اپنے تعلقات جاری رکھے ہوئے ہے- درحقیقت امریکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ تائیوان کا چھتیس ہزار مربع کیلومیٹر کا جزیرہ چین کا اٹوٹ حصہ ہے اور تائیوان میں کسی بھی طرح کا بیرونی اقدام چین کے داخلی امور میں مداخلت شمار ہوتا ہے- اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹرامپ کو پتہ تھا کہ ان کے اس اقد ام سے پروٹوکول پامال ہوں گے اور چین کے سلسلے میں سابق امریکی صدور کی پالیسیاں کیا تھیں ؟ - مسلمہ امر یہ ہے کہ اگر ٹرمپ نے تائیوان کی صدر محترہ تسای اینگ ون سے اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں امریکہ اور تائیوان کے درمیان سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی ہو اور خاص حالات اور زمانے میں اس جزیرے کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات کو جاری رکھنے پر یقین رکھتے ہوں گے تو چین امریکہ کے اس اقدام کو تمام معاہدوں اور اعلامیوں کی خلاف ورزی تصور کرے گا- البتہ اس اہم مسئلے کی جانب بھی اشارہ کرنا چاہئے کہ ان تمام برسوں میں امریکہ نے تائیوان کے ساتھ اتنا ہی تعاون کیا ہے جسے چین کے مفادات ، مصلحتوں اور اقتدار اعلی کی خلاف ورزی نہ کہا جائے- امریکہ ، اپنے جدید ترین ہتھیار بھی تائیوان کو نہیں دے سکا اور ایک عرصے تک امریکہ کے اصرار کے باوجود ، چین نے تائیوان کو عالمی ادارہ صحت کا رکن بھی نہیں بننے دیا -  چین نے اس سلسلے میں امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ عالمی اداروں میں نمائندگی اور رکنیت کا حق صرف ملکوں سے مختص ہے جبکہ تائیوں صرف ایک مقامی حکومت ہے- اس کے باوجود امریکی گاہے بگاہے حالات کے  تقاضے کے مطابق تائیوان اور ہانگ کانگ کی کمیونسٹ چین کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں ڈیموکریسی اور آزاد معیشت کے نمونے کے عنوان سے حمایت کرتے رہے-  چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہر بہانے بیجنگ کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے کیونکہ امریکہ کا یہ رویہ بارہا ناکام ہوچکا ہے اور اس کا نقصان خود چین میں سرمایہ کاری کرنے والی اس کی کمپنیوں سمیت  امریکہ کو ہوا ہے- بہرحال جہاں تک چین کے مفادات اور اقتدار اعلی کا تقاضہ ہوگا وہ اس طرح کے تمام اقدامات خاص طور سے امریکہ اور یورپ کے اقدامات کے سامنے ردعمل ظاہر کرے گا لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ بیجنگ چین کے سلسلے میں امریکہ کے نومنتخب صدرکے موقف اور رویوں پر نظر رکھے ہوئے ہے- کیونکہ چین کی نظر میں انتخابی وعدوں اور نعروں والے ٹرامپ میں اور عملی طور پر دنیا کے سب سے مقروض ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے ٹرمپ میں فرق ہوگا - ٹرمپ اگر ریپبلکن کے معیارات کے وفادار ہوں گے تو انھیں تاریخ کو نہیں بھولنا چاہئے کیونکہ ریپبلکن کوہی کمیونسٹ چین کے ساتھ تعلقات کا معمار سمجھا گیا ہے-