سعودی بادشاہ کا خلیج فارس کے ممالک کا دورہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i260971-سعودی_بادشاہ_کا_خلیج_فارس_کے_ممالک_کا_دورہ
سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سنیچر سے خلیج فارس کے عرب ممالک کا دورہ شروع کیا ہے اور پہلے مرحلے میں متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں اور اس کے بعد وہ قطر ، بحرین اور کویت بھی جائیں گے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۴ Asia/Tehran
  • سعودی بادشاہ کا خلیج فارس کے ممالک کا دورہ

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سنیچر سے خلیج فارس کے عرب ممالک کا دورہ شروع کیا ہے اور پہلے مرحلے میں متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں اور اس کے بعد وہ قطر ، بحرین اور کویت بھی جائیں گے-

سعودی عرب کے بادشاہ ، خلیج فارس تعاون کونسل کے سینتیسویں اجلاس میں بھی شرکت کریں کہ جو چھے اور سات دسمبر کو بحرین میں ہوگا- خلیج فارس تعاون کونسل کی اعلی کونسل کے سینتیسویں اجلاس کا اصلی موضوع خلیج فارس کے عرب ممالک کی یونین کی تشکیل ہے- خلیج فارس تعاون کونسل کے عرب ممالک کی یونین کی تشکیل کا آئیڈیا ایسی حالت میں زیرغور ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے قالب میں ان ممالک کے درمیان اشتراک عمل کو مختلف چیلنجوں کا سامنا رہا ہے- درحقیقت خلیج فارس تعاون کونسل سعودی عرب کی اجارہ دارانہ پالیسیوں کے باعث علاقے میں آل سعود کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کا آلہ کار بن کر رہ گئی ہے اور یہی امر اس کونسل کے رکن ملکوں کے درمیان اختلافات کا باعث ہوا ہے اور مجموعی طور پر یہ کونسل علاقائی سطح پر ناکام اور لاحاصل ہوکر رہ گئی ہے- خلیج فارس تعاون کونسل نے ابتداء میں خلیج فارس کے عرب ممالک کے درمیان باہمی اقتصادی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے کی قائم کی گئی تھی لیکن ایران کے خلاف صدام کی مسلط کردہ جنگ کے زمانے میں یہ کونسل ایران کے خلاف فوجی اقدامات اور پروپیگنڈہ مہم چھیڑنے کے لئے صدام کا آلہ کار بن کر رہ گئی  تھی- ایران کے خلاف خلیج فارس تعاون کونسل کے گھسے پٹے بیانات ، علاقے میں خود غرضی پر مبنی مغرب کی تسلط پسندانہ پالسیوں کے غماز ہیں- دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل جب سے سپر جزیرہ نامی فوجی یونٹ تشکیل دی ہے اس وقت سے یہ کونسل رکن ملکوں کو کچلنے کے ذریعے میں تبدیل ہو چکی ہے اور یہ امربحرین میں آل خلیفہ کے ہاتھوں اس ملک کی عوام کی سرکوبی میں حصہ لینے کے لئے سپرجزیرہ نامی اس کونسل کی فوج  کے فوجیوں کو بحرین بھیجے جانے سے پوری طرح کھل کر سامنے آگیا- اقتصادی میدان میں خلیج فارس تعاون کونسل کا اقدام بھی اس بات کا ثابت کرتا ہے کہ یہ کونسل اقتصادی میدان میں بھی خاص طور سے حالیہ برسوں میں تیل کے سلسلے میں سعودی عرب کی مشکوک اور غیرسنجیدہ پالیسیوں کے نتیجے میں سخت خسارے سے دوچار ہوئی اور رکن ممالک عملی طور پر مختلف معاشی مشکلات میں مبتلاء ہوئے ہیں- خلیج فارس تعاون کونسل کو شام اور عراق میں دہشت گردوں کے حامیوں کے مرکز میں تبدیل کرنے کے سعودی عرب کے اقدامات اور اس کونسل کو یمن میں آل سعود کے جنگ بھڑکانے کی پالیسیوں میں شامل کرنا اس بات کا باعث بنا کہ علاقے میں سعودی عرب کی ناکام پالیسیوں کے نتائج صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہے اور اس کے نتائج کم و بیش خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کو بھی برداشت کرنا پڑے- یہ مسئلہ اس کونسل کے بعض رکن ملکوں کی تنقید اور عمان سمیت بعض ممالک کے سعودی عرب کی پالیسیوں سے دوری اختیار کرنے کا موجب بنا کہ جو خلیج فارس تعاون کونسل میں پھوٹ پڑنے کے مترادف ہے- ان حالات میں سعودی عرب ، خلیج فارس کے عرب ممالک کی یونین کی تشکیل کے منصوبے کو آگے بڑھا کر ان ملکوں میں اپنا تسلط اور اثر و رسوخ قائم کرنے اور علاقے میں اپنی مہم جویانہ پالیسیوں کوآگے بڑھانے کی کوشش کررہا ہے- البتہ یہ ایسے حالات میں ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک کو خلیج فارس تعاون کونسل کا ناکام تجربہ ہوچکا ہے اور بعید نظرآتا ہے کہ اب وہ خلیج فارس تعاون یونین کے قالب میں کوئی کامیابی حاصل کرسکے گی کہ جس کے لئے بھرپور تعاون اور اشتراک عمل کی ضرورت ہے - اس بنا پرعمان جیسے بعض ممالک پہلے ہی خلیج فارس کے عرب ممالک کی یونین کے موضوع کو ایک ناکام عمل قراردے رہےہیں اور انہوں نے اس کی کھلی مخالفت کا اعلان کیا ہے-