ایران کے وزیر خارجہ کا دورۂ چین
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i261034-ایران_کے_وزیر_خارجہ_کا_دورۂ_چین
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، ایک اعلی سطحی سیاسی و اقتصادی وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر آج بیجنگ پہنچے جہاں انھوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۳۲ Asia/Tehran
  • ایران کے وزیر خارجہ کا دورۂ چین

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، ایک اعلی سطحی سیاسی و اقتصادی وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر آج بیجنگ پہنچے جہاں انھوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے تمام فریقوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی اور اعلان کیا کہ ایران اور چین، علاقائی و بین الاقوامی مسائل میں ایک جیسے نظریات رکھتے ہیں۔ شاہراہ ریشم پر واقع ایشیا کے دو اہم ملکوں کی حیثیت سے ایران اور چین کے تعلقات، مختلف شعبوں منجملہ سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، سیکورٹی اور دفاعی شعبوں میں فروغ پاتے رہے ہیں اور ایران کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ اسی تناظر میں انجام پا رہا ہے۔ سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ایران نے مختلف شعبوں منجملہ دفاعی شعبے میں تعاون کے فروغ کا خیرمقدم کیا ہے۔ چین کے وزیر دفاع اور کمانڈر انچیف وان چوان نے اپنے حالیہ دورہ تہران میں ایرانی حکام سے سیکورٹی اور دفاعی تعاون کے بارے میں گفتگو بھی کی ہے۔ انہوں نے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر حسن روحانی نے دہشت گردی اور دیگر ملکوں کے داخلی امور میں ناجائز مداخلت کو دو بڑے خطروں سے تعبیر کیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مشترکہ مفادات اور ایک دوسرے کے احترام کی بنیاد پر جاری رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد مختلف شعبوں منجملہ دفاعی، اقتصادی، توانائی اور جوہری شعبوں میں باہمی تعاون کا مناسب ماحول پیدا ہوا ہے جس کے نتیجے میں اس تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ حاصل ہوگا۔ اس رو سے اس دورے میں پہلا مسئلہ کہ جس کی طرف سیاسی حلقوں کی توجہ مبذول بھی ہوئی ہے ایران اور چین کے اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔ اور یہ مسئلہ موجودہ خطرات اوردہشت گردی کے خلاف مہم نیز علاقائی امن و استحکام کے تحفظ میں تہران اور بیجنگ میں پائی جانے والی ہم آہنگی کے پیش نظر، قابل درک ہے۔ ظاہر ہے کہ امن کے تحفظ کے لئے باہمی تعاون کی ضرورت ہے اور علاقائی و عالمی سطح پر بااثر اور آپس میں ہم آہنگ ملکوں میں تعاون کا فروغ، کثیر جانبہ تعاون اور سرانجام اجتماعی طور پر امن و استحکام کی تقویت کا باعث بن سکتا ہے۔ دہشت گردی اور وسطی و مغربی ایشیا میں نیٹو اور امریکہ کی موجودگی اہم علاقائی و عالمی مسئلے میں تبدیل ہو گ‏ئی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ روس اور چین جیسے ملکوں کے ساتھ ایران کے تعاون کا فروغ مشترکہ خطرات کے ادراک پر مبنی ہے اور ان ملکوں میں پائی جانے والی ہم آہنگی اور ان کے باہمی تعلقات و تعاون کی مزید توسیع کا باعث بنے گی۔ ایران اور چین کی معیشت بھی ایک دوسرے سے کافی جڑی ہوئی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور ایٹمی معاہدے کے ایک فریق ملک کی حیثیت سے چین، مختلف شعبوں میں ایران کے ساتھ تعاون کو ضروری سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اقتصادی شعبے میں مختلف امور منجملہ بیکنگ کے امور کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران اور چین، مشترکہ مفادات کے حامل ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات و تعاون کے فروغ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں پائی جاتی۔ رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک سال قبل چین کے صدر اور ان کے ہمراہ وفد کے دورہ تہران میں انجام پانے والی ملاقات میں ایران اور چین کی قوموں کے تاریخی تجارتی و ثقافتی تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا تھا کہ ایران کی حکومت اور قوم، چین جیسے آزاد اور قابل اطمینان ملکوں کے ساتھ تعلقات کے فروغ کی خواہاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض ملکوں خاص طور سے امریکہ کی تسلط پسندانہ پالیسیاں اور دیگر ملکوں کے ساتھ تعاون میں ان کی عدم صداقت، اس بات کا باعث بنی ہے کہ دنیا کے آزاد ممالک ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کریں۔ پچّیس سالہ اسٹریٹیجک تعلقات کے لئے ایران اور چین کے درمیان مفاہمت اور مشرق کی طرف ایران کا رجحان، اسی دائرے میں مفہوم پاتا ہے اس لئے کہ مغرب کبھی ایرانی قوم کا اعتماد بحال نہیں کر سکا ہے۔ اس درمیان ایران کے سلسلے میں امریکہ کی پالیسی مغربی ملکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بد تر اور دشمنانہ رہی ہے۔ جس کی ایک مثال ایٹمی معاہدے کے دائرے میں امریکہ کی خلاف ورزی اور اس کی جانب سے اپنے وعدے پر عمل نہ کیا جانا ہے۔ امریکی کانگریس میں ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون کی مدّت میں یکطرفہ طور پر توسیع، ایٹمی معاہدے کی ماہیت کے خلاف ہے اور امریکہ کی یہی دشمنانہ پالیسیاں اس بات کا موجب بنی ہیں کہ ایرانی قوم اور حکام، آزاد ملکوں کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں۔ چین کے صدر کے دورہ ایران میں ان کا یہ بیان کہ بعض طاقتیں انحصار پسندی اور مخاصمانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران اور چین، انحصار پسندنہ اہداف سے ہٹ کر آزادانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں اور یہ طرز عمل، فطری طور پر آزاد ملکوں کی حکمت عملی اور پالیسیوں پر عمل کا ماحول سازگار بنائے گا۔ چنانچہ ایران اور چین کے تعلقات کو اسی نقطہ نظر سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔