ہندوستان میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور افغانستان کے لئے اس کے نتائج
افغانستان کے بارے میں چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ہندوستان کے شہر امرتسر میں ایک بیان جاری کئے جانے کے ساتھ ختم ہو گئی۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے جاری کردہ بیان میں علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کا بھرپور مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے۔ اس کانفرنس کی اہمیت اس کے علاقائی ہونے میں ہے اور کانفرنس میں شریک اداروں اور بیشتر ملکوں کا تعلق بھی علاقے سے ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پانچ سال قبل بحران افغانستان کے حل میں مدد کے لئے علاقے کے ملکوں کے عزم و ارادے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کو تشکیل دیا گیا۔ حکومت افغانستان کے نقطہ نظر سے اس عرصے میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں کے بیانات سے افغانستان کے بحران خاص طور سے سیکورٹی سے متعلق بحران کے حل میں کوئی مدد نہیں ملی۔ اس لئے کہ افغانستان کے سیکورٹی امور میں اہم اور بااثر ترین ملک پاکستان ہے جو حکومت کابل کے خیال کے مطابق افغانستان میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتا۔ اسی بناء پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس، افغانستان کے مسائل کے حل میں مدد کے ذریعے سے کہیں بڑھکر پاکستان پر افغانستان اور ہندوستان پر پاکستان کی تنقید اور اعتراض کے وسیلے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ طالبان کی حمایت سے متعلق پاکستان پر افغانستان کے صدر کی تنقید اور خود غرض ہونے کے بارے میں افغانستان کے صدر کو پاکستان کا سخت جواب، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ افغانستان کے حالات پر اثرانداز ہونے والے ملکوں کے اختلافات اس ملک میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور اس میں اضافہ، جو تشدد پسند اور دہشت گرد گروہوں کا اہم ترین مالی ذریعہ ہے، نہ صرف افغانستان کی قومی سلامتی بلکہ علاقے کے تمام ملکوں کی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسداد جرائم و منشیات کے ادارے نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ دو ہزار سولہ میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں دس فیصد اضافے کے ساتھ منشیات کی کاشت اب دو لاکھ ایک ہزار ہیکٹر زمین تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغانستان میں منشیات کی کاشت اور اس کی پیداوار کے مسئلے کے بارے میں کوئی راہ حل پیس نہیں کی گئی جبکہ افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لئے فوجی امداد کی بھی اشد ضرورت ہے۔ افغانستان کے سیاسی و فوجی حکام نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ کابل کی حکومت نے سیکورٹی اور فوجی ضروریات سے متعلق اپنی فہرست، ہندوستان اور روس کو پیش کردی ہے جبکہ افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لئے فوجی سازوسامان خاص طور سے ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے اور ہندوستان کے شہر امرتسر میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں اس بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کانفرنس کے اختتامی بیان میں علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے۔ اس رو سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مسلسل انعقاد، اگرچہ افغانستان کے حالات علاقائی و عالمی حلقوں کی توجہ کا مظہر ہے تاہم امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں کی جانے والی تقریروں اور فیصلوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ کانفرنس میں شریک ممالک انفرادی طور پر افغانستان کی مدد کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغانستان کے عوام کی خواہش تھی کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے کابل اور اسلام آباد کے اختلافات حل کرنے میں مدد ملے تاکہ افغانستان اور پاکستان، اپنے تعلقات کے نئے دور کا آغاز کریں اور اسلام آباد افغانستان کے امن عمل میں مدد کے لئے بنیادی اقدامات عمل میں لائے۔