امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے دہشت گردوں کی مدد
تازہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ، شام کے شہر حلب میں دہشت گردوں کے زیرقبضہ علاقوں میں امدادی کھیپ پہنچانے کے مسئلے پر غور کر رہے ہیں۔
اخبار گارڈین نے اس بارے میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے حکام نے شام میں دہشت گردوں کو امداد پہنچانے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ لندن اور واشنگٹن کو اس بات پر تشویش ہے کہ ایسا کرنے پر انھیں شام کی جانب سے براہ راست مقابلہ کئے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گارڈین نے لکھا ہے کہ روس بھی شام میں پیچیدہ فضائی دفاعی سسٹم کی تنصیب کے ساتھ داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف اپنے اقدامات عمل میں لا کر امریکہ اور برطانیہ کے اس منصوبے کے لئے ایک بڑے مسئلے میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کی بناء پر مغرب کی جانب سے روس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی مانند برطانیہ بھی روس پر حلب میں محصور لوگوں کو خوراک اور امداد کی فراہمی میں رکاوٹ کا الزام عائد کرتا ہے تاکہ رائے عامہ کی توجہ، دہشت گردوں کے لئے مغرب کی حمایت سے محصور علاقے میں مدد کی طرف مبذول کرائی جا سکے۔ شام میں دہشت گردوں کی شکست و ناکامی نے ان کے حامیوں یعنی مغربی اور بعض عرب ملکوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اب وہ ان دہشت گردوں کو بچانے کے لئے ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ دہشت گردوں کو اس قسم کی مدد کی فراہمی، ایک عرصے سے جاری ہے اور اس سلسلے میں علاقے میں دہشت گردوں کے قریبی ذرائع ابلاغ منجملہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے عرب ملک، سعودی عرب کے اخبار الشرق الاوسط نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے۔ اس اخبار نے کچھ عرصہ قبل شام کے مسائل کے امریکی ماہر چارلز لسٹر کے حوالے سے لکھا کہ حالیہ مہینوں کے دوران شام میں فری سیرین آرمی سے موسوم مسلح گروہ کو ہتھیاروں اور امداد کی دو بڑی کھیپیں پہنچائی جا چکی ہیں۔ یہ ایسے میں ہے کہ خبری حلقوں منجملہ روس کے ایک ٹی وی چینل نے انکشاف کیا ہے کہ یہ امدادی کھیپیں عملی طور پر داعش اور اس سے وابستہ دیگر دہشت گرد گروہوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اس سلسلے میں شام میں حلب کے قریب جبہۃ النصرہ گروہ سے، امریکہ کے جدید قسم کے ہتھیار برآمد کئے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اردن کی عقبہ بندرگاہ کے ذریعے سترہ سو ٹن ہتھیاروں اور امداد کی کھیپ، اسی گروہ کو پہنچائی گئی تھی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ کے کارٹر تحقیقاتی مرکز نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جبہۃ النصرہ کے علاوہ، جو دہشت گردوں سے متعلق اقوام متحدہ کی عالمی فہرست میں بھی شامل ہے، گذشتہ دو برسوں کے دوران امریکہ کی جانب سے فری سیرین آرمی کے عنوان سے شام کے حکومت مخالف تیئیس مسلح گروہوں کو فوجی ہتھیاروں کی امریکی امداد کی کھیپ پہنچائی جا چکی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک، دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش کو مالی مدد اور فوجی ہتھیار پہنچا رہے ہیں اور ایسی حالت میں کہ اقوام متحدہ کے حکام نے داعش دہشت گرد گروہ پر پابندی اور اس گروہ کے اراکین کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے، خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ انسان دوستانہ امداد کی کھیپ کے عنوان سے دہشت گردوں کو بیرونی امداد پہنچائے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر شامی حکام نے شامی عوام کو امداد پہنچانے میں مدد اور اس بارے میں سہولتیں فراہم کرنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے شام میں مداخلت اور اس ملک کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات کے جواز کے لئے سلامتی کونسل کے بعض اراکین کی جانب سے شام میں جاری انسانی بحران سے غلط فائدہ اٹھائے جانے پر سخت خبردار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی قرارداد نمبر اکّیس ستّر منظور کر کے القاعدہ سے وابستہ تمام گروہوں منجملہ داعش کو کالعدم اور اسے نہتا کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کے دائرے میں ان افراد کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کی ضرورت ہے جو دہشت گرد گروہوں میں شمولیت کے لئے افراد تیار اور یا ان کی مالی و فوجی مدد کرتے ہیں نیز ان گروہوں کے لئے جنگ کرتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ بعض فریقوں منجملہ یورپی ملکوں اور امریکہ کی خودغرضانہ کارکردگی کی بناء پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی یہ قراداد، غیر موثر بنی ہوئی ہے۔