شام کی فوج بڑی کامیابی کے دہانے پر
امریکہ ہے طرح سے کوشش کررہا ہے کہ شام کی فوج مشرقی حلب میں کامیاب نہ ہونے پائے
شام کے شہر مشرقی حلب میں عنقریب شام کی فوج دہشتگردوں کو شکست فاش دے کر عظیم کامیابی حاصل کرنے والی ہے لیکن امریکہ نے اس کامیابی کا سد باب کرنے کے لئے ہر طرح کی کوشش شروع کررکھی ہے۔
شام کی فوج روس کی فضائیہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مشاورت سے مشرقی حلب میں عظیم کامیابی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ مشرقی حلب میں دہشتگردوں کوشکست دینا شام میں دہشتگردوں کے خاتمے کے معنی میں نہیں ہے لیکن اس سلسلے میں ایک بڑا قدم سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے دہشتگرد گروہووں کے حامی بالخصوص امریکہ حالیہ دنوں میں یہ کوشش کرچکے ہیں کہ ایک بار پھر روس اور شام کو جنگ بندی کے لئے راضی کرلیں۔امریکہ نے ماضی کی طرح جب بھی دیکھا کہ شام کی فوج دہشتگردوں پر کامیاب ہورہی ہے تو انسانی المیے کا مسئلہ چھیڑ کر جنگ بندی کرانے کی کوشش کی ہے اور اب بھی یہی چاہتا ہےکہ انسانی المیے کے سہارے شام میں جنگ بندی عمل میں آجائے۔ ہرچند روس کی حکومت نے نئے مذاکرات کے لئے حامی بھرلی ہے لیکن جس طرح سے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے امریکہ نے حلب سے عام شہریوں کے نکلنے کے سلسلے میں عجیب اور متضاد موقف اپنایا ہے۔امریکہ کے یہ عجیب و متضاد مواقف سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ بالواسطہ طریقے سے حلب میں اپنی شکست اور مشرقی حلب کی دہشتگردوں سے آزادی کو تسلیم کرچکا ہے لھذا امریکہ نے مشرقی حلب میں جو جنگ بندی کی ہے اس سے اس کا ھدف عام شہریوں کو بچانا نہیں ہے بلکہ وہ دہشتگردوں کے لئے ایسے مواقع فراہم کرنا چاہتا ہے تاکہ صدر باراک اوباما کی صدارت کے آخری دنوں میں کم از کم اپنی شرمناک شکست کا سد باب کرسکے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور روس کے مذاکرات کی ناکامی کہ جس کا سبب امریکہ کی متضاد پالیسیاں ہیں اس بات کا سبب بنی ہے کہ شام کی فوج مشرقی حلب کومکمل طرح سے آزاد کرانےکے لئے اپنی کوششیں بدستور جاری رکھے۔ واضح رہے مشرقی حلب کا محض ایک چوتھائی حصہ دہشتگردوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ادھر امریکہ بحران شام میں بوکھلاگیا ہے اور شام اور اس کے حامی بھرپور منصوبہ بندی کے تحت دہشتگردوں سے لڑ رہے ہیں۔ شام کی حکومت کو دو دشواریاں پیش ہیں، پہلی دشواری یہ ہے کہ حلب میں گنجان آبادی ہے اور عمارتوں بھی قریب قریب بنی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شام کی فوج شہریوں کو بچانے کے لئے احتیاط سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہےکہ امریکہ آئندہ دنوں میں بھی شام کی فوج کو حلب میں بڑی کامیابی حاصل کرنے سے روکے گا۔ اسی سلسلے میں بعض خبری ذرایع کا کہنا ہے کہ باراک اوباما نے دہشتگردوں کو مسلح کرنے کے سلسلے میں جو پابندیاں لگائی تھیں ان میں سے کچھ ختم کردی ہیں۔ان محدودیتوں کے ختم ہونے سے امریکہ دہشتگردوں کو ہتھیار اور فوجی سازو سامان پہنچا سکتا ہے۔