خلیج فارس تعاون کونسل کا حربہ ایرانو فوبیا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i261790-خلیج_فارس_تعاون_کونسل_کا_حربہ_ایرانو_فوبیا
لندن اور منامہ نے خلیج فارس تعاون کونسل کی حالیہ نشست میں باہمی فوجی تعاون اور اسٹراٹیجیک منصوبوں کے بارے میں خبردی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۲:۴۶ Asia/Tehran
  • خلیج فارس تعاون کونسل کا حربہ ایرانو فوبیا

لندن اور منامہ نے خلیج فارس تعاون کونسل کی حالیہ نشست میں باہمی فوجی تعاون اور اسٹراٹیجیک منصوبوں کے بارے میں خبردی ہے۔

 

لندن اور منامہ نے خلیج فارس تعاون کونسل کی حالیہ نشست میں باہمی فوجی تعاون اور اسٹراٹیجیک منصوبوں کے بارے میں خبردی ہے۔یہ تعاون اور فوجی موجودگی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے لیکن منامہ نشست کس وجہ سے اب بھی علاقائی اور برطانوی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا  ہوا ہے؟  منامہ نشست کے اختتامی بیان پرایک نظر ڈالنے سے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ اس بیان میں ایران پر الزام لگایا گیا ہے کہ ایران علاقائی ممالک کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے۔ اس اجلاس میں ایک ہماہنگ پالیسی کے تحت یہ کوشش کی گئی ہے کہ ایرانو فوبیا پر عمل کرتے ہوئے ایران کو علاقے کے تمام مسائل کا ذمہ دار قراردیا جائے۔

خلیج فارس تعاون کونسل اپنے وجود میں آنے کےھدف کے پیش نظر ہمیشہ کی طرح بیان جاری کرتے ہوئے ایران کے خلاف بزعم خویش الزامات لگاتے آرہی ہے۔ منامہ اجلاس میں بھی یہی ہوا ہے تاہم فرق اتنا ہے کہ اس بیان میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے کا 'علاقے میں ایران کے جارحانہ اقدامات  کا جملہ بڑھا دیا گیا ہے۔

واضح سی بات ہے کہ اس حمایت سے برطانیہ کا ھدف فوجی لحاظ سے خلیج فارس میں واپس آنے کے لئے زمین ہموار کرنا ہے۔البتہ برطانیہ تقریبا دو صدیوں سے خلیج فارس میں سامراج کی حیثیت سے موجود ہے اور اتفاق سے اس علاقے کے ملکوں کے درمیان سرحدی اختلافات اور بے بنیاد ارضی دعوے جو علاقے کے عرب ملکوں کی طرف سے پیش کئےجاتے ہیں اسی سامراجی زمانے کی میراث نیزعلاقے میں بعض ملکوں  کے جھوٹے تشخص کی بنا پر ہیں جو اپنا ماضی فراموش کربیٹھے ہیں۔ اس درمیان سعودی عرب کا کردار کسی حد تک الگ دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے خاص اھداف مد نظر رکھتا ہے، ایسے اھداف جن کا سرچشمہ تباہ کن رقابت ہے جس کے ذریعے وہ برتری حاصل کرکے دیگر ملکوں پر تسلط جمانا چاہتا ہے۔اسی تناظر میں سعودی عرب علاقے میں ایران کے کردار کو رقابت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا برطانوی وزیر خارجہ نے بھی اعتراف کیا ہے اور اپنے وزیر اعظم کے موقف سے کسی حد تک ہٹ کر علاقے میں سعودی عرب کے کردار پر تنقید کی ہے۔ اخبار گارڈین نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں بوریس جانسن نے علاقے میں سعودی عرب کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے البتہ یہ تنقید بھی سعودی عرب کی حمایت کے ساتھ ساتھ ہی ہے۔برطانوری وزیر اعظم تھریسا مئے پہلی برطانوی وزیر اعظم اور پہلی خاتوں ہیں جنہوں نے خلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی ہے اور عرب ملکوں کو دفاع اور فوجی ٹریننگ میں سرمایہ کاری کرکے ان کی سکوریٹی میں مضبوطی لانے کی پیش کش کی ہے۔ اس پیش کش میں سعودی عرب کی طرف سے امریکہ سے ہٹ کر یورپ کی جانب جھکاؤ دکھائی دیتا ہے ۔ ہسپانیہ کے اخبار ال پائیس نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ سعودی عرب امریکہ سے ہٹ کر دوسری بڑی طاقتوں سے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے امریکہ سے منہ پھیرنے کا ایک اور معنی یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے مفادات میں ٹکراو ہورہا ہے البتہ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لندن یورپی یونین سے نکلنے کے بنا پر عرب ملکوں سے اپنے تعلقات بڑھانے کی کو شش کررہا ہے تو لندن کی اس اپروچ کی اہمیت دوچندان ہوجاتی ہےاس اخبار نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھریسا مئے چاہتی ہیں ان مذاکرات سے عظیم تجارتی معاہدے کی راہ ہموار ہو، اس اخبار نے لکھا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے لئے خلیج فارس کے ملکوں میں تیس ارب پاونڈ کی مالیت کے مواقع پائے جاتے ہیں۔ یاد رہے ان ملکوں میں سے بعض گذشتہ صدی کے اوائل کے برسوں میں برطانوی حمایت کے تحت تھے۔

بحرین جو منامہ اجلاس کا میزبان تھا اس نے بھی دوہزار گیارہ سے سکیورٹی کے بہانے کرکے سعودی عرب کی مدد سے اپنے عوام کی پرامن تحریک کو کچلنا شروع کررکھا ہے۔ لھذا سعودی عرب اور اس کے کچھ پٹھو ممالک جیسے بحرین اور متحدہ عرب امارات جنہوں نے اس تباہ کن راستے پر چلنے کی قیمت چکانے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے، ان کے اس سمت آنے کی شاید ایک دلیل یہ ہےکہ وہ اپنے آپ کو شکست خوردہ دیکھتے ہیں اور اس دلدل سے جو خود انہوں نے بنایا ہے نکلنے کی واحد راہ علاقے میں بحران سازی وہ بھی اس مرتبہ برطانیہ کے  پرچم تلے دیکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے حکام اس سے قبل یہ کھ رہے تھے کہ تیل کی منڈیوں میں ڈیمانڈ ختم ہوجانے سے ایران دیوالیہ ہوچکا ہے لیکن اب خود کو تمام محاذوں پر پسپائی کی حالت میں پاتے ہیں۔یمن بھی سعودی عرب کے ویتنام میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یمن کے عوام کی پائداری سے سعودی عرب کا فوجی اور سفارتی اعتبار ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ایسے حالات میں سعودی عرب اور اسکے پٹھو علاقے میں تازہ شگاف بنانے کی کوشش میں ہیں اور اس ھدف تک پہنچنے کے لئے وہ ہر کام کرنے کو تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ان اقدامات میں منجملہ ایران کو عالمی سطح پر خاص طور سے اقوام متحدہ  میں خطرہ بنا کر ظاہر کرنا ہے۔سعودی عرب کے یہ اقدامات اقوام متحدہ کو خطوط بھیجنے کی شکل میں شروع ہوچکے ہیں جبکہ سعودی عرب اور اسکے علاقائی پٹھوؤں اور غیر علاقائی حامیوں کی ناکامی اس طرح کے اقدامات سے ٹلنے والی نہیں ہے۔