افغانستان میں طالبان سے اعلی امن کونسل کی اپیل
افغانستان کی اعلی امن کونسل نے طالبان سے کہا ہے کہ اگر وہ امن کے خواہاں ہیں تو انھیں چاہئے کہ کسی بھی قسم کی شرط سے گریز کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات شروع کر دیں۔
افغانستان کی اعلی امن کونسل کی جانب سے یہ اپیل قطر میں طالبان کے دفتر سے جاری کئے جانے والے اس بیان کے بعد کی گی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان، افغانستان میں مشروط طور پر امن کا عمل آگے بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔ قطر میں طالبان کے دفتر کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر باضابط طور پر تسلیم کئے جانے اور اس گروہ کے افراد کے نام اقوام متحدہ کی فہرست سے ختم کئے جانے کی صورت میں یہ گروہ، افغانستان میں امن کا عمل آگے بڑھانے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کے لئے طالبان نے جن شرطوں کا اعلان کیا ہے وہ ان کے حالیہ مواقف کے بالکل خلاف ہیں۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے طالبان نے جن وجوہات کی بناء پر بھی ان شرطوں کا اعلان کیا ہو، وہ افغانستان کی قومی حاکمیت اور آزادی کو نظرانداز کئے جانے کے مترادف ہیں کہ جس پر طالبان تاکید بھی کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی اعلی امن کونسل کے نائب سربراہ مولوی عطاء الرحمان سلیم نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ افغانستان میں امن کا واحد ذریعہ، کابل کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا ہے اور طالبان کے پاس مذاکرات کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ حکومت کابل کے مطابق امن مذاکرات، افغانستان کے آئین کے دائرے میں ہی ہو سکتے ہیں اور طالبان کو اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ افغانستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس رو سے امریکہ کے ساتھ طالبان کے مذاکرات کا بھی کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اگرچہ اس گروہ نے اب تک افغانستان کے امن عمل میں شامل ہونے کی حامی نہیں بھری ہے مگر طالبان کے حالیہ مواقف منجملہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں اسکول کھولے جانے میں مدد کی آمادگی اور قومی منصوبوں کی پاسداری سے، اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ طالبان گروہ بھی اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ افغانستان کے بحران کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا اور وہ جنگ کے ذریعے کابل میں دوبارہ واپس اور یا جن علاقوں پر اس کا کنٹرول ہے طویل مدّت تک ان کا تحفظ کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان گروہ، عالمی اداروں اور کابل کی حکومت سے مراعات حاصل کرنے کے لئے جنگ اور مذاکرات کے رجحان کی پالیسیوں پر ایک ساتھ عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے کہ اس مقصد کے حصول میں پاکستان کی کوشش اب تک کامیاب ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ ایسی حالت میں جب کوئٹہ کونسل کے رہنما بھی افغانستان منتقل ہو گئے ہیں، طالبان اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک ایسے بااثر گروہ کی حیثیت سے کہ جسے بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے تسلیم بھی کیا گیا ہو، افغانستان کی سیاسی تبدیلیوں میں اپنے کردار کی راہ ہموار کریں۔ جبکہ ان کا یہ مقصد، افغانستان میں اغوا کے واقعات اور عوام پر طالبان کے حملوں اور ان کے اہداف کے بھی منافی ہے۔ البتہ طالبان کے ساتھ روس کے رابطے کی تصدیق، ایک طرح سے علاقے کے مختلف ملکوں کے ساتھ اس گروہ کے تعاون کی خواہش کی ترجمان ہے اور حکومت افغانستان کو بھی امید ہے کہ اس قسم کے رابطوں سے افغانستان کے امن کے عمل میں طالبان کی شمولیت کی ترغیب میں مدد ملے گی۔ چنانچہ افغانستان کے امن کے عمل میں غیر مشروط طور پر شمولیت کے لئے طالبان سے اس ملک کی اعلی امن کونسل کی اپیل، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے اس گروہ کی درخواست پر ایک طرح سے ردعمل، شمار ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حکومت کابل کے نقطہ نظر سے حزب اسلامی حکمتیار کے ساتھ امن کا سمجھوتہ، جو اس پارٹی کو تسلیم کئے جانے اور اقوام متحدہ کی فہرست سے اس پارٹی کے اراکین کے نام نکلوانے نیز اس پارٹی کے قیدیوں کی جیل سے رہائی کے لئے حکومت کی کوششوں پر منتج ہوا ہے، طالبان کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے تاکہ وہ حکومت افغانستان کے ساتھ امن سمجھوتے کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کریں۔ ایسا نہیں لگتا کہ امریکہ بھی قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے آغاز کے ساتھ، افغانستان کی آزادی اور قومی اقتدار اعلی کو نظرانداز کئے جانے کے اس تلخ تجربے کو دہرانے کے درپے ہو گا، جو حامد کرزی کی صدارت کے دور میں کابل حکومت کے شدید احتجاج اور اس دفتر کے بند ہونے پر منتج ہوا تھا۔