ہندوستان اور افغانستان پر پاکستان کے الزامات
ہندوستان اور افغانستان پر پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ وہ اسلام آباد کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ممکن ہے جس کے تینوں ملکوں اور پورے علاقے کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں۔
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے افغانستان میں قیام امن میں اپنے ملک کی دلچسپی پر زور دیتے ہوئے بقول ان کے پاکستان کے خلاف دشمنی کے مقصد سے ہندوستان اور افغانستان کے اتحاد کو علاقے اور خود ان کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب قرار دیا۔ ہندوستان اور افغانستان کے پاکستان کے ساتھ مختلف مسائل پر الگ الگ اختلافات ہیں کہ جن کے نتیجے میں جنگیں بھی ہوئیں۔ ہندوستان کے کشمیر اور دہشت گردی جیسے مسائل اور افغانستان کے طالبان گروہ اور حقانی نیٹ ورک نیز ڈیورنڈ لائن اور دہشت گردی کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ شدید اختلافات ہیں۔ ہندوستان پاکستان پر کشمیری گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کرتا ہے۔ پاکستان ہندوستان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کی اخلاقی اور سیاسی حمایت پر زور دیتا ہے۔ کیونکہ وہ انیس سو سینتالیس میں تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت مسلمان اکثریتی علاقہ ہونے کی حیثیت سے اسے اپنا حصہ سمجھتا ہے۔
درایں اثنا محمد اشرف غنی کے افغان صدر بننے کے بعد افغانستان نے گذشتہ دو سال کے دوران اعلان کیا کہ افغانستان کے امن کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے اور اس نے اس ملک کے لیے ریڈ کارپٹ بچھا کر اسلام آباد حکومت سے اپیل کی کہ وہ طالبان کو افغانستان کے امن عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دلائے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب افغانستان کے امن عمل کا ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے بلکہ افغان حکومت نے پاکستان پر اس سلسلے میں رکاوٹیں ڈالنے، طالبان گروہ اور حقانی نیٹ ورک کی حمایت جاری رکھنے اور دہشت گرد گروہ داعش کو وجود میں لانے کا الزام لگایا ہے۔
اس طرح ہندوستان اور افغانستان کی جانب سے پاکستان پر اپنے مخالف گروہوں کی حمایت کرنے کے الزامات بار بار لگائے جانے سے پاکستان کے حکمرانوں میں یہ خیال تقویت پا رہا ہے کہ نئی دہلی اور کابل ممکن ہے انٹیلی جنس تعاون کے ذریعے تحریک طالبان اور بلوچستان کے علیحدگی پسند مسلح گرہوں جیسے پاکستانی حکومت کے مسلح مخالف گروہوں کی حمایت کریں۔ درحقیقت پاکستان بھی ہندوستان اور افغانستان پر ایک قسم کی پراکسی وار کا الزام لگاتا ہے اور اسکا یہ خیال ہے کہ افغانستان میں را سمیت ہندوستان کی خفیہ ایجنسیاں موجود ہیں جو پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہیں اور افغانستان کے مختلف شہروں میں موجود ہندوستان کے قونصل خانے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے اندر پاکستان مخالف پالیسیوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ جبکہ دہشت گردی ہندوستان، پاکستان اور افغانستان تینوں ملکوں کا مشترکہ دشمن ہے اور انھیں اب تک دہشت گردوں سے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اس کے باوجود یہ تینوں ملک دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کرنے کے بجائے بدستور ایک دوسرے پر اپنے مخالف مسلح گروہوں کی حمایت کا الزام لگا رہے ہیں۔ یہ صورت حال دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک سیکورٹی زون پیدا ہونے کا باعث بنی ہے اوریہ گروہ پوری طاقت سے ان کی قومی سلامتی اور مفادات کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
افغان حکومت کا اہم نقطہ نظر افغانستان کے امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دینے کے لیے اسلام آباد حکومت کا اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہے تاکہ اعتماد پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے اختلافات کو حل کرنے میں بھی مدد ملے۔ ہندوستان کے بارے میں بھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ہندوستان بحران کشمیر کے بارے میں شفاف موقف اپنا کر اس کے سیاسی اور بنیادی حل میں مدد دے گا۔ پاکستانی حکومت کی نظر میں جب تک مسئلہ کشمیر بنیادی طور پر حل نہیں ہوتا تب تک علاقے میں امن و استحکام بحال نہیں ہو گا اور وہ ہندوستان کو جنوبی ایشیا میں بحران اور بدامنی جاری رہنے کا سبب سمجھتا ہے۔