چین پاکستان اقتصادی کوریڈور، خطرات کے مقابل مواقع
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i262120-چین_پاکستان_اقتصادی_کوریڈور_خطرات_کے_مقابل_مواقع
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ کے باضابطہ افتتاح کے بعد اب اس اقتصادی کوریڈور کی افادیت، اثرات اور نتائج کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۱۲, ۲۰۱۶ ۱۵:۱۸ Asia/Tehran
  • چین پاکستان اقتصادی کوریڈور، خطرات کے مقابل مواقع

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ کے باضابطہ افتتاح کے بعد اب اس اقتصادی کوریڈور کی افادیت، اثرات اور نتائج کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے سینیٹر اور اقتصادی کوریڈور کے خصوصی کمیشن کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ یہ کوریڈور ہندوستان کے سوا بہت سے ممالک کے لیے بےپناہ اقتصادی فوائد کا حامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی کوریڈور کا قیام جیوپولیٹیکل میدان میں ایک واقعہ ہے اور یہ طاقت کا توازن مغرب سے ایشیا اور مشرق کی جانب موڑ سکتا ہے۔

ملکوں کے مابین تعاون دو طرفہ اور کئی جانبہ مفادات کا ضامن ہو سکتا ہے۔ اس بنا پر مختلف اقتصادی میدانوں میں پاکستان اور چین کا تعاون بھی دو ہمسایہ ممالک کے رشتوں کو مضبوط بنانے کا باعث بنے گا۔

پاکستان اور چین کی اقتصادی صورت حال پر ایک نظر ڈالنے سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں پاکستان اقتصادی، توانائی کی پیداوار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی شدید ضرورت کی بنا پر چین کی جانب زیادہ قدم اٹھانے پر مائل ہے؛ لیکن اگر ان تعلقات میں جیوپولیٹیکل اور جیو اسٹریٹیجک پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو اس صورت میں کسی حد تک بدامنی کے شکار ہمسایہ ملک یعنی پاکستان میں چین کی دلچسپی کو بھی درک کیا جا سکتا ہے۔

چین نے کافی عرصہ پہلے اس راستے میں سڑکوں اور ریلوے لائن کا جال بچھانے کے لیے کوشش شروع کر دی تھیں اور اس کے بعد اس نے توانائی منتقل کرنے والی پائپ لائنوں کے وسیع نیٹ ورک کی تعمیر کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ چینیوں کو اپنی اقتصادی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کے بعد دنیا میں توانائی استعمال کرنے والے دوسرے بڑے ملک کی حیثیت سے خاص طور سے خلیج فارس کے تیل سے مالامال ممالک سے اس اسٹریٹیک توانائی کو درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

چین کے نقطہ نظر سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو پاتا تو چین اس کوریڈور کے ذریعے اپنی اقتصادی اور توانائی کی اسٹریٹیجی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ اس صورت میں وہ اپنے آئل ٹینکروں اور بحری جہازوں کو ملیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع کسی حد تک ناامن آبنائے مالاکا سے گزارنے پر مجبور ہے۔

یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ کوریڈور صرف چین کے تیل کی درآمد تک محدود نہیں ہے، کیونکہ یہ کوریڈور چین کے تیل کی درآمد کا راستہ کم اور مختصر کرنے کے ساتھ ساتھ چینی مصنوعات کو خلیج فارس، مشرق وسطی، وسطی ایشیا ، یورپ، افریقہ اور امریکہ تک پہنچانے کے لیے بھی بہترین اور آسان راستہ ہے۔

چین کو امید ہے کہ وہ اس کوریڈور کو مسلمان آبادی والے صوبے سین کیانگ سے گزار کر یہاں پر موجود وسیع بدامنی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اقتصادی ترقی کا راستہ بھی ہموار کرے گا۔

یقینی طور پر پاکستان بھی چین کی اقتصادی توانائیوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان کو اس وقت بدامنی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاص طور پر مغربی علاقوں میں کامیاب کارروائیاں کر سکتا ہے اور اس سلسلے میں چین کی خواہشات کو پورا کر سکتا ہے۔ پاکستان نے اگر اس وعدے پر عمل کر دیا تو یقینی طور پر وہ چین کی طرح اس اقتصادی منصوبے کو ایک اسٹریٹیجک منصوبے کے طور پر دیکھ سکتا ہے اور قومی، علاقائی اور بین الاقوامی مفادات کے سلسلے میں اس کے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔