ایران اور روس باہمی اسٹریٹیجک تعاون کے راستے پر گامزن
ایران اور روس نے منگل کے دن تہران میں پیٹرولیم کے شعبے میں باہمی تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں۔
اس سمجھوتے کے مطابق، کہ جس پر ایران کی نیشنل پیٹرولیم کمپنی اور روس کی قومی گیس کمپنی گازپروم نے دستخط کئے ہیں، روسی گیس کمپنی گازپروم مغربی ایران میں واقع دو آئل فیلڈز چشمہ خوش اور چنگولہ میں تحقیقات انجام دے گی۔ اس سمجھوتے پر ایرانی وزیر پیٹرولیم بیژن نامدار زنگنہ اور روسی وزیر توانائی الیگزینڈر نوواک کی موجودگی میں دستخط کئے گئے۔ دریں اثناء آج تہران میں ہونے والے ایران اور روس کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے تیرھویں اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے سربراہوں الیگزینڈر نوواک اور محمود واعظی کی موجودگی میں دونوں ممالک کے باہمی اقتصادی تعاون کے نقشہ راہ کی دستاویز پر بھی دستخط کئے جائیں گے۔
اگر بیس برس قبل یہ کہا جاتا کہ ایران اور روس کے تعلقات بحیرۂ خزر کے ہمسایہ ہونے کے نتیجے میں وجود میں آنے والی تاریخی میراث کی بنیاد پر استوار ہیں تو یہ کسی حد تک قابل قبول ہوتا لیکن آج بجاطور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب حالات بدل چکے ہیں کیونکہ اسٹریٹیجک مسائل ، مشترکہ مفادات اور اجتماعی امن و سلامتی کی بنیاد پر ایران اور روس کے باہمی تعاون کا دائرہ فوجی میدان تک پھیل چکا ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ حکمت عملیوں کا خطے خصوصا شام میں دہشت گردی جیسے خطرات کے مقابلے کے لئے موثر ہونا عملی طور پر ثابت ہوچکا ہے۔ بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ علاقائی صورتحال خصوصا مشرقی وسطی (مغربی ایشیا) کی صورتحال کے پیش نظر ایران اور روس کے تعلقات اہم مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اس وقت حالات بہت تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف شام اور عراق بلکہ تمام علاقے پر ان کے منفی اثرات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ مغرب کی تسلط پسندی نے مغربی ایشیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران اور روس اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان حالات کا اجتماعی سلامتی کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ روس نے ان واقعات کے خلاف رد عمل ظاہر کیا اور وہ بھی میدان عمل میں آگیا۔ ایران نے بھی عراق اور شام کے مسائل کے سلسلے میں علاقائی ممالک کے حقوق کے ساتھ ہم آہنگ پالیسی اور فوجی مشاورت کے ذریعے خطے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کی روک تھام کی کوشش کی ہے۔ اس اشتراک عمل سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سلامتی کے میدان میں ایران اور روس کی ہم آہنگی باہمی تعاون پر منتج ہوسکتی ہے۔ ماضی میں ایران اور روس کا باہمی تعاون جمود کا شکار تھا لیکن اب دونوں ممالک عملی طور پر باہمی تعاون کر رہے ہیں۔ مبصرین کے نزدیک ایران اور روس کے مشترکہ کردار کی وجہ سے خطے خصوصا شام اور عراق کے بحرانوں کے سیاسی حل کے مواقع بڑھیں گے۔ باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی اہم خصوصیت اجتماعی امن و سلامتی کی تقویت ہے جو کہ موجودہ صورتحال میں خطے کے تمام ملکوں کی ضرورت ہے۔ البتہ واضح ہے کہ اس باہمی تعاون کے دشمن بھی ہیں اور صیہونی لابی ان دنوں نیتن یاہو کے علاقائی دورے کے ساتھ ہی سرگرم ہوگئی ہے۔ یہ لابی ایران کے ساتھ روس کے تعلقات اور ان میں توسیع کی راہ میں رکاورٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ یہ لابی ان تعلقات کو مشرق وسطی میں آنے والی طاقت کی تبدیلی کے پیش نظر اپنے نقصان میں جانتی ہے۔
ایران اور روس اب اسٹریٹیجک تعاون کے راستے پر گامزن ہیں اور اس تعاون کا مستقبل واضح اور روشن ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہےکہ ایران اور روس بہت زیادہ صلاحیتوں کے حامل ہیں اور وہ وسطی ایشیا اور بحیرۂ خزر کے علاقے میں اقتصاد، توانائی اور سیکورٹی کے میدانوں میں باہمی تعاون میں مزید توسیع لا سکتے ہیں۔