طالبان نے امن مذاکرات ٹھکرادئے
افغانستان میں طالبان نے صدر اشرف غنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے امن مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے بلکہ دہشتگرد گروہ القاعدہ سے اتحاد پر تاکید کی ہے۔
افغانستان میں طالبان نے صدر اشرف غنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے امن مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے بلکہ دہشتگرد گروہ القاعدہ سے اتحاد پر تاکید کی ہے۔ طالبان نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے تمام عناصر سے کہاہے کہ حکومت افغانستان کے خلاف جنگ جاری رکھیں۔
طالبان کا یہ موقف ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان شاہین سہیل نے قطر میں حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ طالبان گروہ افغانستان میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے امریکہ سے مذاکرات کرسکتا ہے۔انہوں نے اس کام کے لئے قطر میں طالبان کے دفتر کو تسلیم کئے جانے اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے طالبان کے لیڈروں کے نام نکال دئے جانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس کےبعد افغاں صدر محمد اشرف غنی نے ایک نشست میں جو عید میلاد النبی کی مناسبت سے رکھی گئی تھی طالبان گروہ سےمطالبہ کیا کہ افغان گروہوں کے ساتھ مذاکرات شروع کریں۔ طالبان کی جانب سے افغان امن عمل کی مخالفت میں ان کا نیا موقف نہ صرف صدر اشرف غنی کی درخواست کو مسترد کرنا ہے بلکہ سہیل شاہین کے موقف سے بھی تضاد رکھتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کے دھڑون میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔واضح رہے ملا عمر کی ہلاکت کے بعد اس گروہ میں اختلافات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور ملا احمد منصورکے طالبان کا سربراہ بنائے جانے کے بعداپنے ایک گروہ کے ساتھ ملا محمد رسول اللہ نے اپنا راستہ الگ کرلیا۔ ملا اختر منصور کے مارے جانے کےبعد ہیبۃ اللہ آخوندزادہ کو طالبان کا سرغنہ معین کیا گیا لیکن وہ بھی طالبان میں اتحاد قائم نہیں کرسکے۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں شدت آنے کے بعد حکومت افغانستان نے طالبان کو امن عمل میں شریک ہونے کی ترغیب دلانا بند کردیا اور طالبان کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ ان حالات میں قطر میں طالبان کے سابق ترجمان مذاکرات کار محمد طیب آغا نے طالبان کے سرغنے سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے گروہ کے موقف میں توازن لائیں اور پبلیک مقامات پر دھماکے نہ کریں اور بیرونی انٹلیجنس ایجنسیوں کی سرپرستی سے نکل آئیں۔ طالبان کے سرغنے نے یہ اعلان کرتے ہوئے ہوئے کہ ان کا گروہ ایک قومی گروہ ہے مزید کہا کہ وہ قومی منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں، آخوند زادہ نے یہ بات کھ کر محمد طیب آغا کے نطریات سے قریب ہونے کا عندیہ دیا ہے لیکن امریکہ سے مذاکرات کرنا اور القاعدہ سے اتحاد کرنا طالبان کی اعلان شدہ قوم پرستی سے منافات رکھتا ہے جس سے پتہ چلتا ہےکہ طالبان کے اندر بھرپور طرح سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ اختلافات افغانستان کے حالات بالخصوص امن مذاکرات کے تعلق سے ہیں۔ طالبان کی دوبارہ یہ تاکید کہ وہ القاعدہ دہشتگرد گروہ سے اتحاد کرتا ہے دوہزار ایک سے پہلے کے حالات کی طرف لوٹنا ہے۔ امریکہ نے دوہزار ایک میں ہی افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ امریکہ میں دوہزار کے واقعات کے بعد امریکہ نے طالبان سے مطالبہ کیا تھا طالبان اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردیں جن پر امریکہ نے نائن الیون کے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔طالبان کے سابق سرغنے ملا عمر نے یہ کھ کر کہ اسامہ بن لادن ان کے مہمان ہیں انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔ جس کے جواب میں امریکہ نے القاعدہ کو ختم کرنے کے غرض سے افغانستان پر لشکر کشی کردی۔ ان حقائق کے پیش نظر طالبان کا ایک بار پھر القاعدہ دہشتگرد تنظیم سے اتحاد کرنا کہ جس کی موجودگی سے افغانستان کے عوام کو بدستور نقصان ہورہا ہے افغان رائے عامہ بالخصوص پشتون قوم کے مقابل کھڑا ہونا ہے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ امریکہ اور نیٹو دہشتگرد گروہ داعش اور القاعدہ کے خلاف کاروائیوں کے بہانے اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر افغانستان پر اپنا قبضہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ صورتحال بھی طالبان کے اعلان شدہ موقف سے آشکارا تضاد رکھتی ہے ، طالبان نے دعوی کیا تھا کہ وہ امریکہ کو افغانستان سے نکالنے کے لئے اس کے خلاف لڑرہے ہیں۔