انڈونیشیا کے صدر نے رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات کی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i262525-انڈونیشیا_کے_صدر_نے_رہبرانقلاب_اسلامی_سے_ملاقات_کی
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انڈونیشیا کے صدر 'جوکو ویدو دو' سے ملاقات میں کہا کہ انڈونشیا پر اسلامی جمہوریہ ایران کی نگاہ دوستی اور تعاون کی نگاہ ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۶ Asia/Tehran
  • انڈونیشیا کے صدر نے رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات کی

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انڈونیشیا کے صدر 'جوکو ویدو دو' سے ملاقات میں کہا کہ انڈونشیا پر اسلامی جمہوریہ ایران کی نگاہ دوستی اور تعاون کی نگاہ ہے۔

 

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انڈونیشیا کے صدر 'جوکو ویدو دو' سے ملاقات میں کہا کہ انڈونشیا پر اسلامی جمہوریہ ایران کی نگاہ دوستی اور تعاون کی نگاہ ہے۔ آپ نے مختلف میدانوں میں انڈونیشیاء کی اچھی پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں بھی مختلف اقتصادی میدانوں اور زیر زمین ذخائر نیز معدنیات کے شعبوں میں بے پناہ توانائیاں پائی جاتی ہیں۔ آپ نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسلامی ملکوں کو دشمن کی مرضی کے برخلاف ایک دوسرے کی تقویت کرکے اختلافات سے پرہیز کرنا چاہیے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں ایران میں بے پناہ توانائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان مصنوعات کے تبادلے اور اقتصادی سیاسی اور ثقافتی تعاون پر تاکید کی آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران انڈونیشیا کی پیشرفت و سربلندی کو سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک کی حیثیت سے، اسلامی امۃ کے افتخار اور عزت کا سبب سمجھتا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی کے یہ بیانات تمام اسلامی ملکوں کے درمیاں مطلوب تعلقات کا آئیڈیل بن سکتے ہیں لیکن اس راہ میں رکاوٹیں درپیش ہیں ایسی رکاوٹیں جو بہت سے موقعوں پر ہٹائی جاسکتی ہیں یا انہیں نظرانداز کرکے مقصد تک پہنچا جاسکتا ہے۔ شاید اس سلسلے میں ایران اور انڈونیشیا کے تعلقات کو ان دونوں طریقوں کا مجموعہ قراردیا جاسکتا ہے جن سے دونوں ملکوں کا کچھ نقصان بھی ہوا ہے اور کچھ فائدے بھی ہوئے ہیں۔

ایران اور انڈونیشیا ایشیا کے دو بڑے ملک ہیں جن میں مختلف میدانوں منجملہ انرجی کے میدان میں بے پناہ توانائیاں پائی جاتی ہیں۔لیکن جس طرح سے رہبرانقلاب اسلامی نے اشارہ فرمایا ہے ایران اور انڈونیشیا کے درمیان نچلی سطح کے اقتصادی تعلقات دونوں ملکوں کی توانائیوں کے پیش نظر دونوں ملکوں کے شایان شان نہیں ہیں اسی وجہ سے آپ نے تاکید فرمائی ہے کہ نظام الاوقات بناکر دونوں ملکوں کا لین دین بیس ارب ڈالر تک پہنچایا جاے۔

انڈونیشیا کے صدر 'جوکو ویدو دو' نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ ان کے اس دورے کا ھدف دونوں ملکوں کے درمیاں اقتصادی تعاون میں فروغ لانا ہے، انہوں نے کہا وہ ایران کی تیل اور گیس کمپنیوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہتے ہیں اور جکارتا یہ  پختہ عزم رکھتا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع لائے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ممالک جو بہت سے اشتراکات کے حامل ہیں اور دوطرفہ مفادات سے بڑھ کر مفادات رکھتے ہیں تو ان کے تعلقات اس قدر محدود کیوں ہیں؟ اس محدودیت کے علل و اسباب کا پتہ لگانا چاہیے۔جیسا کہ صدر جناب حسن روحانی نے تہران میں ایران اور انڈونیشیا کے مشترکہ اعلی وفود کی نشست میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ اقتصادی تعلقات میں فروغ آئے۔انہوں نے کہا ہے کہ بینکنگ کے تعلقات مضبوط بنانے کے لئے ترجیحی نرخ اور براہ راست تجارت نہایت موثر واقع ہوسکتی ہے۔

البتہ رکاوٹوں کو دونوں ملکون کی کارکردگی کے دائرہ کے باہر سے بھی دیکھنا چاہیے یعنی پابندیوں جیسی رکاوٹوں اور سیاسی لحاظ سے غلط مسائل کا مسلط کیا جانا جیسے ایران کی خارجہ پالیسی پر ایران کے ایٹمی پروگرام سے تشویش کے بہانے پابندیاں لگانا ایسی رکاوٹوں پر بھی نظر ڈالنی چاہیے ۔البتہ یہ پابندیاں مشترکہ جامع ایکشن پلان پرعمل درامد سے ختم ہوگئیں لیکن اب بھی بینکنگ اور زر مبادلہ کے مسائل موجود ہے اسی وجہ سے دیگر عناصر پر بھی توجہ کرنی چاہیے ان عناصر میں سے ایک  بیرونی ملکوں کے لئے سرمایہ کاری کے لئے حالات کا ساز گار نہ ہونا ہے۔

طویل مدت سرمایہ کاری اور تعاون کے لئے ہمہ گیر سکیورٹی کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت مزید اہمیت کا حامل بن جاتا ہے جب علاقے کے حالات اورتنازعات اور بیرونی مداخلتوں پر توجہ کی جائے۔ حالیہ برسوں میں جو حالات بنے ہیں، افغانستان، عراق، شام اور لیبیا نیز یمن میں جنگ کی شعلے بھڑکائے جارہے ہیں، علاقے میں بہت سی توانائیاں نابود ہوکر رہ گئ ہیں اور تعاون و سرمایہ کاری کے مواقع ختم ہوگئے ہیں یا برسوں پیچھے چلے گئے ہیں۔

ٹھیک ٹھیک یہی مسائل ہیں جو تعاون کی اہمیت اور اس حساس زمانے میں جکارتا اور تہران کے کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایران اور انڈونیشیا بلاشک بہت سے میدانوں میں مشترکہ اھداف رکھتے ہیں۔ایران اور انڈونیشیا علاقے میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں ایک دوسرے سے مزید تعاون کرسکتے ہیں مثال کے طور پر میانمار اور فلسطین کے مسلمانوں کی نہایت نامناسب حالت کو بہتر بنانے کے لئے ا کام کرسکتے ہیں، رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ مغربی ایشیا کے علاقے کے حالات مسلط کئے گئے حالات ہیں جنہیں بیرونی خباثت آمیز اھداف کے مطابق مسلط کیا گیا ہے،آپ نے فرمایا ہے کہ ان میں سے بہت سے بحرانوں کا مقصد عالم اسلام کے اہم  ترین اور بنیادی مسئلے فلسطین کو بھلانے کے لئے بنائے گئے ہیں جبکہ اس بات کا موقع نہیں دینا چاہیے کہ مسئلہ فلسطین فراموش ہوجائے۔بے شک علاقے کے مسائل بالخصوص انتہا پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ مذاکرات اور اجتماعی تعاون پر منحصر ہے اور اس کے لئے علاقے کے ملکوں کو باہمی تعاون کرنا پڑے گا۔یہ اھداف تمام میدانوں بالخصوص اقتصادی میدانوں میں قابل حصول ہیں کیونکہ انڈونیشیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی موقف ایک دوسرے سے نزدیک ہیں۔ یاد رہے ایران اور انڈونیشیا دو بڑے اسلامی ملک ہیں ناوابستہ تحریک اور دیگر عالمی اداروں کے رکن ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی معاہدوں پر عمل درآمد بھی جیسا کہ انڈونشیا کے صدر نے کہا ہے یہ کوشش کرنا چاہیے کہ یہ معاہدے عملی شکل میں تبدیل ہوسکیں البتہ دونوں ملکوں کے تعاون کے مخالفین بھی موجود ہیں لیکن ہمیں پختہ عزم و ارادے سے ان پر غلبہ حاصل کرنا ہوگا۔