ہندوستان اور تاجیکستان کے درمیاں فوجی تعاون
تاجیکستان اور ہندوستان نے دو طرفہ تعلقات اور دفاعی امور میں فروغ لانے کے لئے نیز منی لانڈرنگ سے مقابلے اور دہشتگردوں کے آمدنی کے ذرائع کا سد باب کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
تاجیکستان اور ہندوستان نے دو طرفہ تعلقات اور دفاعی امور میں فروغ لانے کے لئے نیز منی لانڈرنگ سے مقابلے اور دہشتگردوں کے آمدنی کے ذرائع کا سد باب کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دوشنبہ اور نئی دہلی کے مابین سکیورٹی ، انرجی اور دفاعی امور میں تعاون میں فروغ لانا تاجیکستان کے صدر امام علی رحمان کے چھٹے دورہ ہندوستان کا ھدف ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے امام علی رحمان سے ملاقات میں کہاکہ دونوں ملکوں کی قیادت باہمی تعلقات اور تعاون بڑھانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سارے علاقے پر تشدد اور دہشتگردی کے خطرے منڈلارہے ہیں کہا کہ دہشگردی کا مقابلہ کرنے میں ہندوستان اور تاجیکستان کا تعاون دونوں ملکوں کے تعلقات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی سلسلے میں تاجیکستان کے صدر امام علی رحمان نے بھی کہا ہے کہ دہشتگردی نے دنیا کے ملکوں کو خطروں سے دوچار کردیا ہے۔
تاجیکستان کے صدر کا دورہ ہندوستان بر صغیر کے دورے کے دوسرے مرحلے میں اور دوہزار پندرہ میں ہندوستانی وزیر اعظم کے دورہ کے جواب میں انجام پارہا ہے، یہ دورہ ہندوستان اور تاجیکستان دونوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ دوشنبہ اپنے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کروانے کی کوشش کررہا ہے اور نئی دہلی یہ کوشش کررہی ہےکہ مرکزی ایشیاء سے اپنے طویل مدت مفادات کے لئے بھر پور فائدہ اٹھاسکے۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ تاجیکستان اور نئی دہلی کے حکام ایک دوسرے کے اھداف کا ادراک رکھتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ مرکزی ایشیا میں ہندوستان کی فوجی اور اقتصادی موجودگی کہ جس پر پاکستان اور چین کو تشویش لاحق ہے اس پر روس کو کوئی اعتراض نہ ہوگا اسی وجہ سے تاجیکستان کے حکام نے اس کا استقبال کیا ہے۔
ہندوستان اور تاجیکستان کے مابین مختلف النوع تعاون کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیاں گذشتہ پندرہ برس کے تعاون پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان تاجیکستان میں فوجی موجودگی رکھنے اور اس ملک کے ساتھ فوجی تعاون کرنے پر مائل ہے۔ ہندوستان نے ستائیس ملین ڈالر خرچ کرکے دوشنبہ کے مضافات میں عینی ایر پورٹ کی جدیدکاری کی ہے اس کے علاوہ ہندوستان نے صوبہ ختلان میں پچاس بیڈ کا ایک فوجی اسپتال بھی تعمیر کرنے میں مشارکت کی ہے۔ اس اسپتال نے اکتوبر دوہزار چودہ سے کام کرنا شروع کیا ہے ۔ اس طرح کے تعاون سے پتہ چلتا ہےکہ تاجیکستان کے صدر کا دورہ ہندوستان فوجی اور اقتصادی اھداف کا حامل ہے۔