ہندوستان اور پاکستان میں فوجی عھدوں میں تبدیلی
پاکستان میں فوج کے اعلی کمانڈروں کی تبدیلی کے بعد ہندوستان میں بھی فوج اور انٹلیجنس سروسز کے اعلی کمانڈروں کو تبدیل کیا گیا ہے
پاکستان میں فوج کے اعلی کمانڈروں کی تبدیلی کے بعد ہندوستان میں بھی فوج اور انٹلیجنس سروسز کے اعلی کمانڈروں کو تبدیل کیا گیا ہے اور ان کی جگہ پر نئے آفیسروں کو لایاگیا ہے۔ اس عمل پر ہندوستان میں داخلی سطح پر اور پاکستان کی جانب سے ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہندوستان میں فوج کے ا علی کمانڈروں کے منصوب کرے پر داخلی سطح پر تنقید کی جارہی ہے۔
ایسے عالم میں کہ ابھی بری فوج کے اور فضائیہ کے سربراہوں کے وظیفہ یاب ہونے میں دو ہفتے باقی ہیں نئی دہلی حکومت نے جنرل بیپین راوت کو فوج کا نیا سربراہ معین کیا ہے۔ جنرل بیپین راوت ہندوستان کے چیف آف آرمی اسٹافس کے نائب سربراہ تھے۔ انہیں دلبیر سنگھ سوھاج کی جگہ پر معین کیا گیا ہے جبکہ فائٹر طیارے کے پائلٹ بیرندر سنگھ دھنوا کو آروپ راھا کی جگہ پر فضائیہ کا سربراہ معین کیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ راجیو جین کو ہندوستان کی داخلی خفیہ ایجنسی کا سربراہ اور انیل دھاسمانا کو ریسرچ اینڈ اینالائیسس نامی بیرون ملک کام کرنے والی انٹلیجنس ایجنسی کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ حزب اختلاف بپین راوت کے فوج کا نیا سربراہ بنائے جانے پر شدید رد عمل ظاہر کیا اور اسے ہندوستان کی فوج کی ڈسپلین کے خلاف قراردیا کیونکہ وہ سینیا ریٹی میں ابھی چار افراد کے بعد تھے اورحزب اختلاف خاص طور سے کانگریس کے مطابق ہندوستان کی فوج میں ایسے بہت سے سینئر افسر موجود ہیں جو فوج کا سربراہ بننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی ایک سینئر فوجی افسر کو فوج کا سربراہ بنایا ہے جنہیں دہشتگردی کے خلاف جنگ کرنے کا بھی تجربہ ہے اور وہ ان امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔حزب اختلاف کا یہ کہنا ہےکہ نئے فوجی سربراہ فوج کو اس کے بنیادی اھداف سے دور کردیں گے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھی فوج میں عھدوں کی تبدیلی پر اعتراض نہیں کیا گیا تھا البتہ حزب اختلاف کا یہ اعتراض حکومت کی جانب سے نوٹ بندی کی بنا پر ہے اور چاہتے ہیں کہ یہ اعترضات ختم کئے جائیں۔ اس کےعلاوہ پاکستان نے انیل دھاسمانا کو بیرونی انٹلیجنس سروس 'را' کا چیف بنائے جانے پر اعتراض کیا ہے اور اس امر کو پاکستان کے صوبے بلوچستان میں مزید مداخلتوں کا پیش خیمہ قراردیا ہے کیونکہ دھاسمانا پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی فائل کے انچارچ تھے۔ اسی وجہ سے پاکستان کو یہ تشویش لاحق ہوچکی ہے کہ نئی دہلی دھاسمانا کی سربراہی میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی حمایت میں اضافہ کردے گی اور اس صوبے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھائے گی۔ اس کے علاوہ حکومت اسلام آباد انیل دھسمانا کو چین و پاکستان کے اقتصادی کوریڈور کی ناکامی کا ذمہ دارسمجھتی ہے اور اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ان کے 'را' کے سربراہ بننے سے پاکستان کے خلاف ہندوستان کی سرگرمیوں میں بالخصوص چین پاکستان تجارت کے خلاف شدت آجائے گی۔ ہندوستان میں جمہوریت کی بنا پر بظاہر سیاسی اور سکیورٹی امور میں فوج کا کردار دکھائی نہیں دیتا لیکن ہندوستان کی حزب اختلاف اور پاکستان کی جانب سے کئے گئے اعتراضات سے ہندوستان کے سیاسی اور سکیورٹی امور میں فوج کے کردار کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔اس امر کے پیش نظر کہ قوم پرست پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی اس وقت ہندوستان میں برسر اقتدار ہے دیگر پارٹیوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ نریندر مودی قوم پرست اور انتہا پسند کمانڈروں کا انتخاب کرکے ہندوستان معاشرے کو ایک رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں اور یہ بات حزب اختلاف کی نظر میں خطرناک نتائج کا موجب بن سکتی ہے۔