ہندوستان پاکستان کو دوستی کا پیغام دے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i263281-ہندوستان_پاکستان_کو_دوستی_کا_پیغام_دے
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی جاری ہے تاہم ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کے خاتمےکا مطالبہ کیا ہے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۳:۱۳ Asia/Tehran
  • ہندوستان پاکستان کو دوستی کا پیغام دے

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی جاری ہے تاہم ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کے خاتمےکا مطالبہ کیا ہے

 

 

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی جاری ہے تاہم ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کے خاتمےکا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ پاکستان کے عوام کے حق میں ہے اور نہ ہی ہندوستان کےعوام کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کو اسلام آباد و نئی دہلی کے درمیان دوستی کے لئے رابطہ پل کا کام کرنا چاہیے۔

محبوبہ مفتی نے ہندوستان کی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو دوستی کا پیغام بھیج کر کشیدگی کم کرے اور مذاکرات شروع کرنے کا اقدام کرے جس طرح سے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واچپئی نے اس وقت کی پاکستانی حکومت کو دوستی کا پیغام بھیجا تھا اور کشمیر کے عوام نے بھی ان کی پالیسیوں کی حمایت کی تھی۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلی نے کہا ہے  کہ حالات بہتر ہونے کی صورت میں وہ کشمیری عوام سے وعدہ کرتی ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان نیز کشمیری رہنماوں سے ہندوستانی حکومت کے مذاکرات منعقد ہوں گے۔ محبوبہ مفتی کی یہ درخواست کہ حکومت ہند پاکستان کے لئے دوستی کا پیغام بھیجے یہ ظاہر کرتا ہےکہ وہ نریندرموردی کی قوم پرست حکومت کی پالیسیوں سے ناراض ہیں۔ بی جے پی کشمیر کی صوبائی حکومت میں شریک ہے اور اس نے آہنی مکے کی پالیسیاں اپنا کر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بدامنی اور بحران کھڑا کررکھا ہے جسے پانچ ماہ کا عرصہ گذر رہا ہے۔ اس کےعلاوہ محبوبہ مفتی کی اس درخواست سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کشمیر کے عوام اور گروہوں سے تشدد سے پیش آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ اس علاقے کے مسائل کو حل کرنے کا واحد راہ حل مذاکرات اور گفتگو ہے۔ واضح رہے گذشتہ پانچ ماہ کی بدامنی کے دوران ہندوستان کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تقریبا ایک سوبیس افراد جان بحق ہوچکے ہیں جس سے وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے لئے علاقے کا انتظام چلانا مشکل ہوچکا ہے اسی وجہ سے انہوں نے نئی دہلی سے تقاضہ کیا ہے کہ اسلام آباد کو دوستی کا پیغام بھیج کر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کی پالیسی اپنائیں جو انہوں پرویز مشرف کے زمانے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنائی تھی۔ اس زمانے میں ہندوستان کی جانب سے دوستی کے پیغام کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے وزراء اعظم نے ملاقات کی اور یہ  چار گانہ کمیٹیوں کی تشکیل کا سبب بنی۔ان کمیٹیوں کا کام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنا ہے، اسی وجہ سے کشمیر کی وزیر اعلی کی نظروں میں ہندوستان اور پاکستان کے موجودہ تعلقات اس بات کے متقاضی ہیں کہ نئی دہلی کشیدگی ختم کرنے کے لئے پہل کرے اور دونوں ملکوں کے تعلقات نیز علاقے میں جو بحران ہے اسے ختم کرے۔ ہندوستان اور پاکستان انیس سو سینتالیس میں اپنی آزادی کے وقت سے خطہ کشمیرکی ملکیت  پر اختلاف رکھتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ برصغیر ہند کی تقسیم کی اساس پر جموں کشیمر جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے پاکستان کے ساتھ محلق ہونا چاہیے تھا لیکن ہندوستان نے برطانیہ کی چال بازی سے اس پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا۔ ہندوستان اور پاکستان دو مرتبہ کشمیر کے مسئلے پر جنگ کر چکے ہیں اور سات عشروں سے اس بحران نے دونوں ملکوں کے تعلقات پرمہیب سایہ پھیلا رکھا ہے۔ ایسا بحران جس سے نہ صرف جنوبی ایشیا کے حالات کشیدگی کا شکار  ہیں بلکہ یہ علاقائی تنظیموں کے تحت ملکوں کے باہمی تعاون میں بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس درمیاں ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر کے عوام بحران کے جاری رہنے سے سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان برداشت کررہے ہیں۔ واضح رہے گذشتہ پانچ مہینے میں  ہندوستان کی فوج کے حملے میں بالخصوص کارتوسوں سے حملوں میں ہزاروں افراد زخمی اور نابینا ہوگئے ہیں۔ کشیمر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے لئے اب انا کا مسئلہ بن گیا ہے جس سے پیچھے ہٹنے سے ان دونوں ملکوں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان تمام مسائل کے باوجود ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلی کی نظر میں ہندوستان، پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کےلئے پہل کرسکتا ہے اور اس علاقے کے گروہ اور عوام بھی ہمیشہ کشیدگی دور کرنے اور بحران کو حل کرنے کے لئے مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔