ترکی میں روس کے سفیر کا قتل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i263287-ترکی_میں_روس_کے_سفیر_کا_قتل
ترکی میں روس کے سفیر کا قتل وہ بھی ٹی وی کے کیمروں کے سامنے اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہوں کو حلب میں شام کی فوج کی کامیابیوں پر کس قدر غم و غصہ ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۳:۳۲ Asia/Tehran

ترکی میں روس کے سفیر کا قتل وہ بھی ٹی وی کے کیمروں کے سامنے اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہوں کو حلب میں شام کی فوج کی کامیابیوں پر کس قدر غم و غصہ ہے۔

 

ترکی میں روس کے سفیر کا قتل وہ بھی ٹی وی کے کیمروں کے سامنے اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہوں کو حلب میں شام کی فوج کی کامیابیوں پر کس قدر غم و غصہ ہے۔

           انقرہ میں پیر کی رات ایک مصوری کی نمائش میں جو واقعہ پیش آیا اور اس میں ترکی میں روس کے سفیرآندری کارلوف  کو نشانہ بناکر قتل کردیا گیا اس واقعے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینا چاہیے۔ اس قتل نے یہ ظاہر کردیا کہ ترک حکومت دیگر ملکوں کے سفیروں اور سفارتی عملے کی حفاظت کرنے میں ناتواں ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہےکہ روس، ترکی کے گذشتہ اقدامات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے۔ ترک فضائیہ کی جانب سے ایک روسی جنگی طیارے کو نشانہ بنا کر گرانا اور روسی پائلٹ کا اس میں مارا جانا اس تشویش کا سبب بن چکا تھا کہ ترکی میں روس کے شہریوں اور مفادات کو ایک بار پھراس طرح کے اقدامات سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔بہرحال اس مرتبہ بھی ترکی انقرہ میں روس کے سفیر کی جان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا، اس مسئلے کے ترکی میں سیاسی اور سکیورٹی لحاظ سے نہایت منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔دوسری طرف سے انقرہ میں ترکی کے سفیر کا قتل شام میں شہر حلب کی تکفیریوں سے آزادی کے کچھ دنوں بعد یہ ظاہر کرتا ہے کہ علاقے میں تکفیری دہشتگرد گروہ نہایت بری طرح بوکھلائےہوئے ہیں۔ ان دہشتگرد گروہوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں شام کی حکومت کو گرانے کےلئے ہر حربہ استعمال کرلیا اور چار لاکھ بے گناہ انسانوں کو اپنے مذموم اھداف کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔ اب حلب کی آزادی کےبعد وہ اپنے خواب چکنا چور ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتین سے انتقام لینے کے لئے انقرہ میں ان کے سفیر کو قتل کردیا ہے۔ دہشتگردوں کو امید ہے کہ وہ اس طرح سے روس کو شام سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ یاد رہے گذشتہ برس روس کے جنگی طیارے پر ترکی کے حملے کے بعد روس نے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گا۔ صدر پوتین نے انقرہ میں اپنے سفیر کے قتل کے بعد بھی کہا ہے کہ وہ اب دہشتگردوں کے خلاف شدید حملے کریں گے اور ان کی شدت کو محسوس کیا جائے گا۔ ادھر  انقرہ میں روسی سفیر کا قتل کرنے والوں اور اس کی سازش تیار کرنے والوں کے اھداف میں  ایک شام کے بحران کو سفارتی طریقوں سے حل کرنے میں رکاوٹیں ڈالنا ہے۔ یہ واقعہ ماسکو میں روس، ترکی اور ایران کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے موقع پر پیش آیا ہے شام کے خلاف جو ممالک اور گروہ ہیں وہ ان تینوں ملکوں کے تعاون سے  بالخصوص ماسکو اور انقرہ کے درمیان کشیدگی ختم ہونے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ امریکہ اور یورپ شام کے صدر بشار اسد کو سرنگون کرنے کی اپنی سازشوں میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اب انقرہ میں روس کے سفیر کے قتل کے بعد شام کے دشمنوں نے ایک بار پھر ترکی اور روس میں نئے سرے سے کشیدگی آنے اور ممکنہ طور پر سفارتی مذاکرات کا سد باب ہونے سے امید لگارکھی ہے اور اس طرح وہ مغرب کو نام نہاد اعتدال پسند مسلح گروہوں کی حمایت کی ترغیب دلانا چاہتے ہیں، اس کے باوجود ترکی میں روس کے سفیر کے قتل کے بعد کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ شام کے بارے میں روس اور ترکی کے  نظریات کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہے۔