شام کا سیاسی بحران
اسلامی جمہوریہ ایران شام میں امن و استحکام قائم کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے اس لئے کہ وہ شام اور علاقے کے کسی بھی ملک میں امن و استحکام کو مجموعی طور پر علاقے اور پوری دنیا کے امن و استحکام کا حصہ سمجھتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے پیر کے روز نامہ نگاروں کے ساتھ اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ایران کے مذکورہ موقف پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے لئے جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ شام میں قومی اقتدار اعلی اور اس ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ نیز امن و استحکام کا قیام ہے۔ اور ایران کو صداقت پر مبنی ایسے کسی بھی اقدام پر کوئی اعتراض نہیں ہے جو شام میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار واقع ہو سکتا ہے۔ اس وقت بھی ایران اور مقابل فریقوں کے درمیان، جو ماسکو میں موجود تھے، دو طرفہ صلاح و مشورے کا عمل جاری ہے اور تہران، حکومت شام کے ساتھ بھی صلاح و مشورے کا عمل جاری رکھے گا۔
ماسکو کا اجلاس، ایک کامیاب اجلاس واقع ہوا ہے جس میں اچھی مفاہمت بھی پیدا ہوئی ہے تاہم اس مفاہمت میں استحکام کا تعلق متعدد عوامل سے ہے۔ دہشت گرد گروہوں نے مختلف ناموں سے ایک ہی مقصد کے تحت علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کی مدد سے شام میں وحشیانہ ترین انسانی المیہ جنم دیا اور اس وقت بھی یہ عناصر پورے شام میں قائم ہونے والی فائر بندی کے عمل میں خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ داعش اور جبھۃ النصرہ جنگ بندی کے معاہدے سے مستثنی ہیں۔ حلب کے لئے پینے کے پانی کی سپلائی لائن کو منقطع کرنے جیسے ایذا رسانی کے اقدامات، مذکورہ عمل کا ہی حصہ ہیں۔ اس سلسلے میں بعض پریس ذرائع نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں سیاسی مذاکرات کے انعقاد کے لئے مخالف گروہوں کے درمیان صلاح و مشورے کا عمل تعطل سے دوچار ہو جانے کی خبر دی ہے۔ اسپوتنیک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکومت شام کے مخالف گروہوں نے پیر کے روز ایک بیان پر دستخط اور اس بات کا دعوی کرتے ہوئے کہ شام میں فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اعلان کیا ہے کہ وہ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔
شام میں فائر بندی کے عمل کی خلاف ورزی درحقیقت مقابل فریق کا ایک مطلوبہ قدم ہے جس کا ایک مقصد ایذا رسانی اور مذاکرات کے ماحول کو کشیدہ بنانا ہے۔
شامی فوج نے دراصل چالیس لاکھ سنّی مسلمانوں کو پانی پہنچانے کے لئے دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ ماسکو اجلاس میں طے پانے والی اہم بات، دہشت گرد گروہوں اور حکومت مخالفین کا الگ الگ کیا جانا ہے۔ ماسکو اجلاس ایسی حالت میں موثر واقع ہوا ہے کہ جنیوا، ویانا یا کہیں بھی انجام پانے والے امن مذاکرات کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے جبکہ امریکہ اور مغرب نواز تمام ممالک، مذاکرات میں تمام مخالف گروہوں کی شرکت کی ضرورت پر زور دے رہے تھے۔ شام میں ترکی کی پالیسیاں بھی شکست سے دوچار ہوئی ہیں اور ان پالیسیوں کے نتیجے میں انقرہ کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا ہے اور اب اس کے پاس، مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔
ان مسائل سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے حلب کی آزادی، جس قدر اہمیت کی حامل ہے امریکہ کے لئے آستانہ اجلاس کے انعقاد کے لئے مفاہمت کا وجود اتنا ہی سخت ہے۔ اس رو سے ماسکو اجلاس میں طے پانے والا سمجھوتہ، دہشت گرد گروہوں کے حامی بعض ملکوں کے مواقف سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا اور اسی بناء پر وہ جتنا بھی ممکن ہو گا ماسکو سمجھوتے اور آستانہ اجلاس کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا کریں گے۔
چنانچہ یہ گروہ ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کے آئندہ کے مقاصد اور شام کی تقسیم کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں اور اسی بناء پر وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ایسا عمل انجام پائے جو بحران شام کے سیاسی حل پر منتج ہو سکے۔