غزہ کے محاصرے کے نتائج
فلسطین کے انسانی حقوق کے مرکز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مکمل محاصرے کے نتیجے میں اس علاقے کی غربت میں پینسٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فلسطین کے مرکز برائے انسانی حقوق نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ غزہ میں بے روزگاری میں سینتالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس علاقے کے اسّی فیصد لوگ، اپنی روز مرہ کی ضروریات بیرونی امداد کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔ ستمبر دو ہزار سولہ کی عالمی بینک کی رپورٹ میں بھی غزہ میں بے روزگاری میں تینتالیس فیصد اور غربت میں ساٹھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہونے کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیل نے فلسطین کے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی کامیابی کے بعد جنوری دو ہزار چھے سے اس تحریک کو شکست دینے کے لئے غزہ کا مکمل محاصر کر رکھا ہے اور وہ بین الاقوامی مطالبات کو خاطر میں لائے بغیر اس علاقے کا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت رفح گذرگاہ واحد ایسا راستہ ہے کہ جس کے ذریعے غزہ کے عوام بیرون غزہ کے ساتھ رابطہ برقرار کر سکتے ہیں مگر صیہونی حکومت کے ساتھ مصری حکومت کے تعاون و ہمراہی کی بناء پر پورے سال کے دوران زیادہ تر یہ راستہ بھی بند ہی رہا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کی غیر انسانی پالیسیاں اور فلسطینی علاقوں خاص طور سے غزہ کا محاصرہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ غزہ کے عوام کو نئے عیسوی سال کے موقع پر بھی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صیہونی حکومت مختلف طریقوں سے فلسطینیوں خاص طور سے غزہ کے عوام کا قتل عام کر رہی ہے اور حالیہ برسوں کے دوران غزہ کے سیکڑوں فلسطینیوں کو صرف محاصرہ جاری رہنے کی بناء پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ ایسی صورت حال میں بین الاقوامی اداروں خاص طور سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صیہونی حکومت کے حامی مغربی ملکوں کے دباؤ کی بناء پر غزہ کی ابتر صورت حال کے بارے میں صرف رپورٹیں سننے پر ہی اکتفاء کیا ہے۔ غزہ کے سخت محاصرے نے اس علاقے کے پندرہ لاکھ عوام کو کھانے پینے کی اشیاء، پینے کے پانی اور دواؤں اور لباس جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے جس کی بناء پر غزہ میں انسانی بحران کے شدّت اختیار کر جانے کے بارے میں تشویش کافی بڑھتی جا رہی ہے۔ غزہ کے محاصرے کے علاوہ صیہونی حکومت نے اس علاقے پر مسلسل حملے جاری رکھ کر عملی طور پر غزہ میں اقتصادی سرگرمیوں کا امکان ختم کر دیا ہے اور مجموعی طور پر صیہونی حکومت کے اقدامات سے غزہ کے عوام کی زندگی دوبھر ہو گئی ہے۔ اگرچہ فلسطینی عوام کی استقامت کے مقابلے میں بارہا شکست و ناکام ہونے کی بناء پر غاصب صیہونی حکومت دو ہزار پانچ میں غزہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہے تاہم وہ اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کو جھکنے پر مجبور کرنے کی مسلسل کوشش کرتی رہی ہے۔ اس رو سے غزہ سے پسپائی اختیار کرنے کے بعد اس علاقے کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کی دشمنانہ پالیسیوں میں نہ صرف یہ کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ فلسطین کے دیگر علاقوں کی مانند غزہ کے عوام کے خلاف اس غاصب حکومت کے غیرانسانی اقدامات میں عملی طور پر اضافہ ہو گیا ہے۔ غاصب صیہونی حکومت اس وقت بھی غزہ کے محاصرے کے مسئلے کو غیر اہم ظاہر کر کے اس علاقے میں اپنی ظالمانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چنانچہ غزہ کے عوام کی حمایت میں عالمی ردعمل اور رائے عامہ کی جانب سے اسرائیل کے غیر انسانی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی المناک صورت حال پر دی جانے والی توجہ سے فلسطین میں اپنے جرائم سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے جیسے اہداف کے حصول میں اسرائیل کے مکمل ناکام ہوجانے کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔