مصر میں حکومت مخالفین کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i267361-مصر_میں_حکومت_مخالفین_کے_احتجاجی_مظاہروں_پر_پابندی
مصر کی عدالت نے تیران اور صنافیر جزیروں کے معاہدے کے مخالفین کے احتجاجی مظاہرے پر پابندی عائد کردی ہے۔ مصر اور سعودی عرب نے گذشتہ سال اپریل کے مہینے میں سعودی عرب کے بادشاہ کے قاہرہ کے دورے کے موقع پر سمندری سرحدوں کی تقسیم کے حوالے سے معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت بحرۂ احمر میں دو جزیروں تیران اور صنافیر کو سعودی عرب کو دیا جانا تھا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۵ Asia/Tehran
  • مصر میں حکومت مخالفین کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی

مصر کی عدالت نے تیران اور صنافیر جزیروں کے معاہدے کے مخالفین کے احتجاجی مظاہرے پر پابندی عائد کردی ہے۔ مصر اور سعودی عرب نے گذشتہ سال اپریل کے مہینے میں سعودی عرب کے بادشاہ کے قاہرہ کے دورے کے موقع پر سمندری سرحدوں کی تقسیم کے حوالے سے معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت بحرۂ احمر میں دو جزیروں تیران اور صنافیر کو سعودی عرب کو دیا جانا تھا۔

مصر کی انٹرا کورٹ نے اس معاہدے کی منسوخی کے احکام جاری کیئے تھے، لیکن مصر کی حکومت نے کورٹ کے فیصلے کے برخلاف، حال ہی میں اس معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے، طے کیا ہے کہ جلد ہی اس معاہدے کے حق میں اسمبلی میں ووٹنگ کرائے۔

عبدالفتاح السیسی کی حکومت کی جانب سے ان جزیروں کو سعودی عرب کو تحویل میں دیئے جانے پر اصرار نے، ایک مدت سے مصر کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

مصر کے ان دو جزیروں کو سعودی عرب کی تحویل میں دیئے جانے کی، مصر کے سیاسی حلقوں مختلف سیاسی پارٹیوں اور عوام نے شدید مخالفت کی ہے۔

مصر میں انجام پانے والے مختلف سروے رپورٹوں کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کی اکثریت مصر کے ان دو جزیروں کو سعودی عرب کی تحویل میں دیئے جانے کی مخالف ہے۔

مصر کی حکومت کے اس فیصلے کے مخالفین نے حالیہ دنوں میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعے حکومت کے اس اقدام کے حوالے سے اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔

لیکن مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا دعوی ہے کہ مصر نے اپنے قلمرو کو کسی کے حوالے نہیں کیا ہے، بلکہ آل سعود کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ان جزیروں کو واپس کیا گیا ہے۔

مصر کی حکومت کا دعوی ہے کہ تیران اور صنافیر جزیرے سعودی عرب سے تعلق رکھتے ہیں۔

مصری حکام کے بقول سعودی عرب نے سن انیس سو پچاس میں اس خوف سے کہ غاصب صہیونی حکومت اس پر قبضہ نہ کر لے، ان جزیروں کی حفاظت کی ذمہ داری  قاہرہ کو سونپی تھی۔

اسی وجہ سے مصر کی حکومت، اس معاہدے کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

تیران اور صنافیر جزیرے سیاسی نکتہ نگاہ  سے بے پناہ اہمیت کے حامل ہیں اور اسٹراٹیجیک شہر شرم الشیخ کے علاقے سے نزدیک ہیں۔

تیران اور صنافیر جزیرے خلیج عقبہ کے انٹری دروازے شمار ہوتے ہیں کہ جو صہیونی حکومت اور صحرائے سینا کے لئے، شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ دونوں جزیرے تقریبا نہر سوئز کی انٹری پر واقع ہیں اور آل سعود کا ان پر تسلط، ریاض  حکومت کے لئے اسٹراٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ مصر کے اقتصادی و مالی بحران نے قاہرہ حکومت کو ان جزیروں کو سعودی عرب کی تحویل میں دینے اور عوام کے روبرو آنے پر مجبور کردیا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ بھاری مالی امداد، وسیع سرمایہ کاری کے مواقع ، پانچ سال تک مصر کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی، وہ مراعات ہیں کہ جو مصر نے ان دو جزیروں کے بدلے سعودی عرب سے حاصل کی ہیں۔

مصر کو اپنے رواں مالی سال میں شدید قسم کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے اور اس کا بیرونی قرضہ بے پناہ بڑھ چکا ہے۔

اپنے شدید اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لئے، مصر کی  حکومت نے سعودی عرب کی امداد پر اپنی امیدیں لگا رکھی ہیں۔

سعودی عرب نے محمد مرسی کی حکومت کے خلاف مصری فوج کے کودتا کے بعد، متحدہ عرب امارات اور کویت کے ساتھ ملکر قاہرہ کی عبوری حکومت کی بارہ ارب ڈالر کی مالی مدد کی تھی۔