ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دعوے کا مقصد ایرانوفوبیا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i267397-ایران_میں_انسانی_حقوق_کی_خلاف_ورزی_کے_دعوے_کا_مقصد_ایرانوفوبیا
ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں سنہ دو ہزار سولہ کے دوران دنیا کے نوے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۳ Asia/Tehran
  • ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دعوے کا مقصد ایرانوفوبیا

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں سنہ دو ہزار سولہ کے دوران دنیا کے نوے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں ایران کے بارے میں بعض دعوے کئے گئے ہیں۔ جن میں ایران میں شہری اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی، سزائےموت خصوصا منشیات سے متعلق امور کی وجہ سے سزائے موت کی شرح کا زیادہ ہونا اور دوہری شہریت کے حامل افراد پر مغرب کے لئے جاسوسی کا الزام لگانا جیسے دعوے شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں ایران میں دینی اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کئے جانے اور اظہار و عقیدے کی آزادی کے فقدان کا بھی دعوی کیا گیا ہے اور اس بات کا بھی دعوی کیا گیا ہے کہ ایران میں سیکورٹی فورسز اور عدلیہ عدل کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

اقوام متحدہ اور مغرب سے وابستہ دوسرے اداروں کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹیں کئی برسوں سے اپنے اصل راستے سے ہٹ چکی ہیں۔ ان رپورٹوں میں انسانی حقوق کے تحفظ کے دعویداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی حقیقی معنوں میں خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے کی جانے والی حمایتوں کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مغرب کے نزدیک انسانی حقوق کی تعریف ہی الگ ہے۔ مغرب کی تعریف کے مطابق دہشت گردی کی طرح ممالک بھی دو اقسام یعنی اچھے اور برے ممالک میں تقسیم ہیں۔ اس تقسیم کے مطابق جو ممالک مغرب کے مفادات پورے کرتے ہیں وہ اچھے ممالک کی صف میں شامل ہیں اور جو ممالک مغرب کی جارحانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرتے اور انسانی حقوق کے معاملے پر مغرب کی پالیسیوں کے آگے سوالیہ نشان لگاتے ہیں ان کا شمار برے ممالک کی فہرست میں ہوتا ہے مثلا مغرب کے نزدیک سعودی عرب کا شمار انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک میں نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ مغرب کے مفادات پورے کرتا ہے۔ اس سلسلے کی دوسری مثال اسرائیل ہے۔ اسرائیل چاہے جس قدر ظلم کرے اور جتنے زیادہ فلسطینیوں کو شہید یا گرفتار کرے، یا جتنے سال چاہے غزہ کا محاصرہ کرے اس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس زاویۂ نگاہ کے مطابق فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کرنے والے اسرائیل کے تمام مظالم کو اپنے دفاع کےنام سے جائز قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق قابضوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے والے فلسطینی مجاہدین کو خطرناک دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ دوسرے مقامات پر بھی صورتحال اسی طرح کی ہے۔ جب امریکہ نے دو ملکوں یعنی افغانستان اور عراق پر حملہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا تھا اور غیر انسانی مظالم ڈھائے تھے تو اس نے اپنے اقدامات کو دہشت گردی کے مقابلے کا نام دے کر ان کا دفاع کیا تھا۔ امریکہ نے جب بھی نہتے شہریوں پر بمباری کی اور ان کو موت کے گھاٹ اتارا تو آخرکار اسے ایک غلطی قرار دیتے ہوئے اپنے مظالم پر پردہ ڈال لیا۔ ابھی عالمی رائے عامہ کو ایران کے مسافر بردار جہاز پر امریکی بحری بیڑے وینسنس کے حملے اور خلیج فارس میں اس جہاز کے گرائے جانے والا واقعہ بھولا نہیں ہے۔ امریکہ نے اس مسافربردار جہاز پر حملے کا حکم دینے والے فوجی افسر کو میڈل دیا تھا۔آج بھی مغرب کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔

امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی، شہری حقوق سے محرومی اور امتیازی سلوک، نسل پرستانہ رجحانات مغرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مصادیق ہیں لیکن ان رپورٹوں میں ان کی مذمت کا کوئی نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہےکہ آج کی دنیا میں انسانی حقوق کو بھی مغرب اپنے سیاسی اہداف کے زاویۂ نگاہ سے دیکھتا ہے انسانی حقوق کے ادارے بھی انہی اہداف کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔