جنرل قمر جاوید باجوہ کا افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون
ایک ایسے وقت میں کہ جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے اور حال ہی میں یہ افغانستان میں عوامی سطح پر پھیل گئی ہے، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان سے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کر دی ہیں۔ الزام تراشی سے امن دشمنوں کو تقویت ملی، دہشتگردی کی لعنت پر قابو پانے کیلئے پاکستان اور افغانستان کو ہر سطح پر تعاون بڑھانا چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورکے ٹویٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون کیا اور کابل ،قندھار میں د ہشتگردی کے حالیہ واقعات میں ہونیوالے جانی نقصان پرتعزیت کااظہارکیا۔
آرمی چیف نے دہشت گردی کانشانہ بننے والوں کے اہلخانہ سے بھی دلی ہمدردی کااظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے ۔ دہشت گردی کی لعنت پورے خطے کے امن واستحکام پر اثرانداز ہورہی ہے ۔ گزشتہ کئی سال سے دونوں برادرممالک کے عوام کو المناک واقعات کاسامناہے۔ پاکستان کے آرمی چیف نے کہا پاکستان نے ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف طویل عرصہ جنگ لڑی ہے اور ملک سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کردی ہیں۔ انہوں نے کہا پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی نقل وحرکت روکنے کیلئے موثر سرحدی انتظام اور انٹیلی جنس تعاون ضروری ہے ۔ دونوں ممالک کو آپریشن ضرب عضب کے فوائد سے استفادہ کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ خطے میں امن اوراستحکام کیلئے ہرصور ت مل کر کام کرناچاہیے۔ انہوں نے کہا پاکستان اور افغانستان مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی افغان صدر کے ساتھ یہ گفتگو کئی پہلوؤں سے اہمیت کی حامل ہے۔ پہلا یہ کہ جنرل باجوہ نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں ایک بڑی تعداد میں عام لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے پر افغانستان کے عوام اور حکام سے ہمدردی کے اظہار سے اسلام آباد سے ان کی نفرت اور غصے کو کم کرنے کی کوشش کی۔ دوسرا یہ کہ چونکہ افغانستان کے معاملات کو پاکستان کی فوج خاص طور پر آئی ایس ائی ڈیل کرتی ہے تو جنرل باجوہ نے افغان صدر سے اپنی گفتگو میں کابل حکام کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی فوج دونوں ملکوں کی مشکلات کو سمجھتی ہے اور وہ ان کے حل کے لیے افغان حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے افغان حکام کو اطمینان دلانے اور اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستانی فوج اپنے نئے کمانڈروں کے ساتھ قیام امن کے لیے افغانستان کی فوج اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ جبکہ افغان حکومت کا بدستور یہ خیال ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے، اور وہ پاکستان کی حکومت پر الزام لگاتی ہے کہ وہ اس سلسلے مین ضروری اور مطلوبہ تعاون نہیں کرتی ہے۔ پاک افغان مشترکہ سرحد کی سیکورٹی اور امن و امان کی صورت حال پر افغانستان نے ہمیشہ اعتراض کیا ہے اور وہ پاکستان پر سرحدوں پر سیکورٹی قائم نہ کرنے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو افغانستان کی طرف دھکیلنے اور بھگانے کا الزام لگاتا ہے۔
ان حالات میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلی فونی گفتگو سے افغان عوام کا غصہ کسی حد تک کم ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اس گفتگو سے دونوں کے مشترکہ دشمن یعنی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے تعاون اور گفتگو کے دروازے کھلے رہ سکتے ہیں۔