شام کے وزیر اعظم تہران کے دورے پر
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i268051-شام_کے_وزیر_اعظم_تہران_کے_دورے_پر
شام کے وزیر اعظم عماد خمیس تہران کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے صلاح و مشوروں کے دائرے میں انجام پا رہا ہے اسی وجہ سے اسے ایک اہم دورہ قرار دیا گیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۱۱ Asia/Tehran
  • شام کے وزیر اعظم تہران کے دورے پر

شام کے وزیر اعظم عماد خمیس تہران کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے صلاح و مشوروں کے دائرے میں انجام پا رہا ہے اسی وجہ سے اسے ایک اہم دورہ قرار دیا گیا ہے۔

اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی امور میں معاہدوں کا جائزہ لینا، شام کی حالیہ کامیابیوں کو برقرار رکھنا اور ان میں توسیع لانا بالخصوص اسٹراٹیجیک شہر حلب کی آزادی اور قزاقستان کے مجوزہ مذاکرات، ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرنے کے لئے شام کے وزیر اعظم کے اہم موضوعات ہیں۔

یہ دورہ ایسے عالم میں انجام پارہا ہے کہ ایران اور روس کے وزرائے خارجہ نے پیر کی شام کو ٹیلی فونی گفتگو میں شام کے امن مذاکرات کے پروگرام کا جائزہ لیا۔  قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیاں تئیس جنوری کو مذاکرات ہوں گے،ان مذاکرات میں اقوام  متحدہ کا ایک وفد بھی شریک ہوگا۔ اب سیاسی مبصرین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ان کوششوں کے افق پر شام کا مستقبل کیسا لگ رہا ہے؟

واضح سی بات ہے کہ مستقبل کے سناریوں کا جائزہ لینے میں تمام مفروضوں کو شامل کرنا چاہیے۔ ایک اہم ترین مفروضہ صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کو مستحکم بنانا ہے، شام کے حالات بھی اس مفروضہ کی تائید کرتے ہیں۔ کیونکہ موجودہ حالات میں مسلح گروہوں میں زیادہ تر گروہ دہشتگرد ہیں جیسے داعش اور جبھۃ النصرۃ ۔ ان کو شام میں اپنے اھداف حاصل کرنے میں شکست ہوئی ہے اور ان کا بنیادی ھدف جنگ کرنا تھا ایسی جنگ جو کہ نہ مقدس تھی اور نہ ہی عوامی مطالبات کے مطابق تھی۔

اگرآج یہ دیکھا جارہا ہے کہ تکفیری گروہ نئے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ ان میں شام میں پیش قدمی کرنے کی توانائی ختم ہوچکی ہے جبکہ اس سے قبل ان کے ذریعے متعدد سناریوں پر عمل کیا جارہا تھا ان میں ایک بنیادی سناریو بشار اسد کی حکومت گرانا اور شام کے ٹکڑے کرنا تھا۔ یہ سناریو دسیوں دہشتگرد گروہوں کو وجود میں لانے کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔امریکہ کے سفارتخانوں کے خفیہ مکاتبات، جن کی دستاویزات کا ویکی لیکس نے انکشاف کیا ہے،سے پتہ چلتا ہےکہ شام کا بحران امریکہ کے دعووں کے برخلاف امریکہ اور اسرائیل کا ایک  پروجیکٹ ہے جو دوہزار چھے سے شام کو استقامت کے محور سے الگ کرنے کی غرض سے شروع کیا گیا تھا لیکن دو ہزار چھے میں لبنان کے خلاف  تینتیس روزہ جنگ اور اس کے بعد دوہزار آٹھ میں غزہ کی بائیس روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی شکست فاش کے بعد امریکہ نے اس سناریو کو ملتوی کردیا اس کے بعد یہ سناریو پراکسی وار کی صورت میں امریکہ، اسرائیل، ترکی، سعودی عرب اور قطر کی حمایت سے شروع کیا گیا۔ ان ہی دستاویزات میں ملتا ہے کہ ترکی کی وزارت خارجہ کے حکام نے امریکی کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنز کے ساتھ گفتگو کی ہے اور اس گفتگو میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کو شیعہ سنی اور دیگر اقوام کے درمیان اختلافات ڈال کر کمزور کیا جا ئے اور اسے اسرائیل کے دشمنوں سے الگ کردیا جائے۔

گذشتہ ایک سال سے شام میں سیاسی اور فوجی میدانوں میں جو تبدیلیاں آرہی ہیں ان سے شام ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جن میں اہم ترین عنصر شام کے گروہوں کی آپس میں گفتگو ہے جسے اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔ یہ گفتگو ایران، ترکی اور روس کی کوششوں اور تعاون سے اسٹراٹیجیک شہر حلب کی آزادی کے بعد بیس دسمبر کے ماسکو بیان کے دائرہ میں شروع ہوئی ہے۔ماسکو اعلامیے میں عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف تعاون، شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس چون پر عمل درآمد اور قزاقستان میں شام کے گروہوں کے درمیان مذاکرات پر تاکید کی گئی ہے۔ اسی بناپر یہ کہنا چاہیے کہ اب شام کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں نئے آپشن سامنے آگئے ہیں جو کہ شام کے دشمنوں کے اھداف کے عین مد مقابل ہیں۔