ایران مکمل طرح سے ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i268351-ایران_مکمل_طرح_سے_ایٹمی_معاہدے_پر_کاربند_ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل نے، ایک نشست میں جو ایٹمی معاہدے پر ایران کی پابندی کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کی گئی تھی اس بات  کی تصدیق کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی رو سے اس پر عائد کی گئی ذمہ داریاں مکمل طرح سے نبھائی ہیں اور ان پر عمل کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۱۹, ۲۰۱۷ ۰۹:۴۴ Asia/Tehran
  • ایران مکمل طرح سے ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل نے، ایک نشست میں جو ایٹمی معاہدے پر ایران کی پابندی کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کی گئی تھی اس بات  کی تصدیق کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی رو سے اس پر عائد کی گئی ذمہ داریاں مکمل طرح سے نبھائی ہیں اور ان پر عمل کیا ہے۔

جمعرات کو ہونے والی اس نشست میں ایٹمی معاہدے کی قرارداد نمبر بائیس اکتیس کے بارے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی ہر چھے میں پیش کی جانے والی دوسری رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اس نشست میں کہا گیا ہے کہ جب سے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوا ہے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے پانچ رپورٹیں پیش کی ہیں اور ان تمام رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے کے تعلق سے اپنے تمام وعدوں پر عمل کررہا ہے۔

ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے ہونے والے ایٹمی معاہدے پر ایران مکمل طرح سے عمل کر رہا ہے اور سلامتی کونسل کے اکثر ملکوں نے اس امر کے پیش نظر کہ ایٹمی معاہدے پر روز بروز عمل درآمد میں اضافہ ہورہا اس کی اس حیثیت سے تائید کی ہےکہ یہ معاہدہ سفارتکاری کے میدان میں ایک نہایت اہم کارنامہ ہے، سلامتی کونسل کے ملکوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریق اس معاہدے پر مکمل طرح سے عمل کریں۔ شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی بہت سی پابندیاں جو ایٹمی پروگرام کے حوالے سے لگائی گئی تھیں پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے کے بعد کالعدم قرار دی جا چکی ہیں، لیکن ایران اب بھی ایسی پابندیوں کی زد میں ہے جنہوں نے ایٹمی معاہدے پر بھی اپنا سایہ ڈال رکھا ہے۔

دسمبر دو ہزار سولہ میں امریکی کانگریس نے ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون آئی ایس اے میں مزید دس برسوں کی توسیع کردی۔ اس قانون میں توسیع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ایٹمی معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے جس میں کئی فریق شامل ہیں۔ اگر اس مسئلے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایٹمی معماہدے پر عمل نہ کرنے کا ایک ھدف ایرانو فوبیا بھی ہے۔ سلامتی کونسل کی نشست میں امریکہ اور برطانیہ نے دوبارہ ان الزامات کی تکرار کی ہے کہ ایران علاقے کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے ۔ یہ الزام شام اور یمن کے تعلق سے بھی لگایا گیا۔البتہ ان الزامات کا تعلق کسی بھی طرح سے ایٹمی معاہدے سے نہیں ہے لیکن اس سے اسی فکر کی نشاندہی ہوتی ہے جو ایران پر الزامات لگاتی رہتی ہے۔ ایران کے خلاف ان الزامات کا ھدف عالمی برادری کے سامنے یہ ظاہر کرنا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے ذریعے ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا ہے، ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ دعوی جھوٹا اور بے بنیاد ہے، امریکہ کی سابق نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے، جو مذاکراتی ٹیم میں بھی شامل تھیں، ایٹمی معاہدے پر دستخط کئے جانے کے بعد اعتراف کیا تھا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایران پر الزامات لگانے کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر ایران کی شبیہ بگاڑ کر پیش کرنا ہے، اور اس کے لئے ایران پر یہ بھی الزامات لگائے جارہے ہیں کہ ایران دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے اور علاقے کے ملکوں میں مداخلت کر رہا ہے، اس کے علاوہ ایران کی دفاعی توانائیوں بالخصوص میزائل توانائیوں کو خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ الزامات وہ ممالک لگا رہے ہیں جو جارحین کو اربوں ڈالر کے ہتھیار اور فوجی ساز وسامان فروخت کررہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ کا ذکر خاص طور سے کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ آل سعود کو ممنوعہ کلسٹر بم بھی فراہم کررہا ہے۔ یاد رہے مغرب کے دئے ہوئے ہتھیاروں سے یمن کے مظلوم عوام کا قتل عام جاری ہے اور ان سے علاقہ جنگ و نابودی سے دوچار ہوگیا ہے۔ البتہ ایران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جس طرح سے وہ اعتماد سازی کے لئے ایٹمی معاہدے کی پابندی کر رہا ہے اسی طرح وہ علاقے میں امن و سکیورٹی قائم رکھنے کی بھی پابندی کر رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے مطابق جس چیز نے روس، ایران اور ترکی کو شام کا بحران حل کرنے کی کوششوں پر مجبور کیا ہے وہ یہ ہے کہ دہشتگردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے اور کوئی بھی انتہا پسندی کی حمایت کرکے حتی وقتی طور پر بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بدھ کو ڈیووس اجلاس میں علاقے میں سعودی عرب کی پالیسیوں پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ سعودی  عرب کی کافی لفاظی سننے  میں آئی ہےجبکہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف دشمنانہ رویہ جاری رکھیں بلکہ وہ علاقے میں امن و استحکام کے لئے تعاون کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے اور دیگر مسائل کے تعلق سے دوہرے رویوں پر مبنی پالیسیوں کا جاری رہنا ایک بڑا چیلنج ہے جس کے خطرناک نتائج کے بارے میں سوچنا چاہیے۔