لیبیا کے بحران کے حل کے بارے میں مشاورت کا سلسلہ جاری
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i268945-لیبیا_کے_بحران_کے_حل_کے_بارے_میں_مشاورت_کا_سلسلہ_جاری
لیبیا میں سیاسی بحران جاری ہے اور اس بحران کو حل کرنے اور اس ملک میں قیام امن کے لئے علاقائي اور عالمی سطح پر مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں لیبیا کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا دسواں اجلاس اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی موجودگي میں بلایا گیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۵:۰۳ Asia/Tehran
  • لیبیا کے بحران کے حل کے بارے میں مشاورت کا سلسلہ جاری

لیبیا میں سیاسی بحران جاری ہے اور اس بحران کو حل کرنے اور اس ملک میں قیام امن کے لئے علاقائي اور عالمی سطح پر مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں لیبیا کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا دسواں اجلاس اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی موجودگي میں بلایا گیا۔

اس اجلاس میں لیبیا، مصر، تیونس، نائیجر کے وزرائےخارجہ اور اقوام متحدہ کے خصوص نمائندے مارٹن کوبلر شریک تھے۔ اجلاس میں لیبیا کے بحران کے سیاسی اور پرامن حل کے بارے میں مشاورت کی گئي۔ اس اجلاس میں لیبیا کے ہمسایہ ممالک کے درمیان اتحاد، لیبیا میں امن کے سمجھوتے تک رسائی کے لئے الصخیرات سمجھوتے پر تاکید، لیبیا میں دہشت گردی کےمقابلے کے لئے متحدہ فوج کی تشکیل اور فوجی مداخلت کی روک تھام جیسے موضوعات پر بحث کی گئي۔ یہ کوششیں ایسی حالت میں انجام دی جارہی ہیں کہ جب لیبیا میں سیاسی صورتحال بدستور کشیدہ ہے ۔ خانہ جنگي اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے اس ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ لیبیا کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن کوبلر نے اس ملک میں خلفشار کے منفی اثرات کےبارے میں خبردار کیا ہے اور متحارب فریقوں سے کہا ہے کہ وہ اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں۔ بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ لیبیا کے عوام اپنے ملک میں بحران کے خاتمے کے لئے زیادہ دیر تک انتظار نہیں کر سکتے ہین۔ اس لئے لیبیا کا بحران غیر معینہ مدت تک کے لئے جاری نہیں رہ سکتا ہے اور اس بحران کے حل کے لئے جلد از جلد فیصلہ کیا جانا چاہئے۔

صخیرات سمجھوتے اور اس متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنےکے باوجود نہ صرف یہ حکومت اپنی قانونی حیثیت منوا نہیں سکی ہے بلکہ پارلیمنٹ کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کرنے اور اس ملک میں سیاسی گرہووں کے حالیہ اقدامات کی وجہ سے عملی طور پر اقتدار سے محروم ہوچکی ہے اور وہ اختلافات کا خاتمہ کر کے قومی آشتی اور تعاون کا راستہ ہموار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اگرچہ کچھ عرصہ قبل لیبیا میں دہشت گرد گروہ داعش کا خطرہ اور اس گروہ کی پیش قدمی کا خطرہ سنجیدہ ہونے کے بعد اس ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں اس دہشت گرد گروہ کے خلاف متحد ہوگئی تھیں اور سرت اور بنغازی میں دہشت گرد گروہ داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقے آزاد ہوگئے لیکن مشترکہ اور جامع سیاسی راہ حل کے فقدان کے باعث لیبیا میں دہشت گردی کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ اور یہ نہ صرف لیبیا بلکہ خطے کے سارے ممالک کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔

اب لیبیا میں کشیدگي اور بدامنی کے واقعات میں شدت آنے کے بعد اس ملک میں دہشت گردوں کی واپسی کا خطرہ پایا جاتاہے۔ دوسری جانب اس ملک کی اقتصادی اور سماجی صورتحال بھی پہلے کی نسبت زیادہ خراب ہوچکی ہے۔

لیبیا کے بہت سے علاقوں میں شہریوں کو اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔ لیبیا  کی سرحدی صورتحال اس ملک میں انسانی اسمگلروں سمیت اسمگلروں کے بہت سے گروہوں کے سرگرم ہوجانے کا باعث بنی ہے۔

ان حالات میں لیبیا کے بحران کے حل کے لئے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔ خطے کےممالک اس ملک کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بعض مغربی ممالک بدستور لیبیا کے لئے فوجی آپریشن کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں۔

لیبیا اور خطے کے ممالک کے حکام کے نزدیک مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات لیبیا کے بحران کا واحد حل ہے کیونکہ باقی تمام آپشن آزمائے جا چکے ہیں اور صرف سیاسی راہ حل ہی اس ملک کو استحکام سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ اس لئے لیبیا کو بحران سے نکالنے کے لئے سب کی نگاہیں  اب سیاسی راہ حل پر ہی ٹکی ہوئي ہیں۔