افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سربراہ وفات پاگئے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i268948-افغانستان_کی_اعلی_امن_کونسل_کے_سربراہ_وفات_پاگئے
افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سربراہ اور اس ملک کی معروف مذہبی ، جہادی اور سیاسی شخصیت پیر سید احمد گیلانی کا حرکت قلب رک جانے کے باعث کابل شہر کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوگيا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۵:۱۲ Asia/Tehran
  • افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سربراہ وفات پاگئے

افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سربراہ اور اس ملک کی معروف مذہبی ، جہادی اور سیاسی شخصیت پیر سید احمد گیلانی کا حرکت قلب رک جانے کے باعث کابل شہر کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوگيا ہے۔

سید احمد گیلانی کو تقریبا ایک سال قبل افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اعلی امن کونسل کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ گیلانی نے اپنی سیاسی زندگي میں حزب محاذ ملی افغانستان کے نام سے ایک پارٹی تشکیل دی جس میں زیادہ پشتون قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں اور جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف شمالی اتحاد تشکیل دیا گيا تو وہ بھی اس کے جہادی کمانڈروں میں شامل تھے۔ سید احمد گيلانی عبوری حکومت کی تشکیل کے وقت قاضی القضات کےعہدے پر فائز ہوئے اور انہوں نے دو برس قبل ہونے والے صدارتی انتخابات میں محمد اشرف غنی کی حمایت کی۔

سید احمد گیلانی کی اعتدال پسندی پر مبنی سیاست، افغانستان کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کے تحفظ کے لئے ان کی کوششوں کے شاندار ماضی اور گزشتہ دو عشروں کے دوران قومی آشتی کی بنیادیں مضبوط کرنے پر ان کی تاکید کے پیش نظر ہی افغانستان کی متحدہ قومی حکومت نے ان کو اس ملک کے عوام اور مختلف سیاسی، قبائلی اور مذہبی  جماعتوں کی حمایت یافتہ اعلی امن کونسل کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے حکم پر سنہ دو ہزار دس کو اعلی امن کونسل تشکیل دی گئي۔ اس کونسل کو ملکی اور علاقائي گنجائشوں سے فائدہ اٹھا کر ملک میں قیام امن اور قومی آشتی کا عمل آگے بڑھانے کی ذمےداری سونپی گئي۔

اس کونسل نے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کونسل کے کام کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہونے کے باوجود طالبان کے ساتھ ، کہ جو حکومت کا سب سے بڑا مخالف مسلح گروہ سمجھا جاتا ہے، قومی آشتی کے منصوبہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سابق سربراہ برہان الدین ربانی ایک دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے تھے اور ان کے بعد سید احمد گيلانی اس کونسل کے دوسرے سربراہ تھے جو طالبان کو ملک میں جنگ اور تشدد  کے خاتمے کے لئے قائل نہ کرسکے۔

اگرچہ افغانستان کی اعلی امن کونسل مختلف مشاورتوں اور کوششوں کے باوجود چھ سال سے زیادہ عرصے کے دوران طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے لیکن یہ کہا جاسکتا ہےکہ گلبدین حکمتیار کی جماعت حزب اسلامی کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنا اور اس جماعت اور حکومت کی جانب سے ایک امن معاہدے پر دستخط کیا جانا افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سابق سربراہ سید احمد گیلانی کا ایک اہم کارنامہ ہے۔

سید احمد گیلانی افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سربراہ تھے لیکن اس کے باوجود وہ میڈیا میں بہت کم آتے تھے۔ لیکن اس کونسل کے بہت سے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس عہدے پر فائز رہنے کے عرصے بہت اچھی کارکردگي کا مظاہرہ کیا۔

شاید یہ کہا جاسکتا ہےکہ برہان الدین ربانی نے افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکرات کا راستہ ہموار کیا اور سید احمد گیلانی نے حکمتیار کے ساتھ معاہدہ کر کے اس ملک میں قیام امن آگے کی جانب ایک قدم بڑھایا۔