آستانہ مذاکرات کے موقع پر مشاورت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i268951-آستانہ_مذاکرات_کے_موقع_پر_مشاورت
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین جابری انصاری قزاقستان کےدارالحکومت آستانہ میں ہونےوالے مذاکرات میں شرکت کےلئے ایک اعلی سطحی وفد کو ساتھ لے اس ملک میں پہنچے ہیں اور انہوں نے ہفتے کی سہ پہر روس اور ترکی کے وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۵:۱۴ Asia/Tehran
  • آستانہ مذاکرات کے موقع پر مشاورت

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین جابری انصاری قزاقستان کےدارالحکومت آستانہ میں ہونےوالے مذاکرات میں شرکت کےلئے ایک اعلی سطحی وفد کو ساتھ لے اس ملک میں پہنچے ہیں اور انہوں نے ہفتے کی سہ پہر روس اور ترکی کے وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

آستانہ مذاکرات کل شروع ہوں گے۔ اگرچہ سیاسی میدان میں سرگرم افراد کے درمیان شام کے بحران کےحل کے سلسلے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن اس اجلاس کا اصلی عنصر بیس دسمبر کے ماسکو اعلامئے کے دائرۂ کار میں اسٹریٹیجک کوششوں کو جاری رکھنا ہے۔

ان مذاکرات کا اصل ہدف اقوام متحدہ کی نگرانی میں اور روس ، ایران اور ترکی کی حمایت کے ساتھ شام کی حکومت اور مسلح مخالفین کے درمیان مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ واضح سی بات ہے کہ اس سلسلے میں مدد دینے والے دوسرے ہر فریق اور ملک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جائیں گي۔ البتہ اس وقت اس شراکت کے لئے دہشت گردی کے مقابلے کے لئے باہمی تعاون بہت ضروری ہے۔

ماسکو معاہدہ  اور آستانہ مذاکرات  تقریبا چھ سال سے شام کو تباہی و بربادی کا شکار بنانے والے بحران کے حل کے لئے ایک اہم قدم ہیں۔ واضح سی بات ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس اسٹریٹجک باہمی تعاون کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ تل ابیب اور واشنگٹن دونوں کو ہی ان مذاکرات میں تہران اور ماسکو کے کردار اور ترکی کے تعاون کی اہمیت کا ادراک ہوچکا ہے اور وہ اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ آستانہ مذاکرات میں کامیابی شام میں جنگی اقدامات کے خاتمے اور خطے میں ان کے مداخلت پسندانہ اہداف کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔

اس کے باوجود تجربے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی حالات کے بارے میں بالکل ٹھیک ٹھیک پیش گوئي نہیں کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ بات تو مسلم ہے کہ جنیوا اجلاس اور آستانہ اجلاس میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔

جنیوا اجلاس کے موقع پر حلب پر شام کی حکومت کے مسلح مخالفین کا کنٹرول تھا لیکن اب آستانہ اجلاس کے موقع پر ایسا نہیں ہے ۔ اس شہر پر مسلح مخالفین کا قبضہ ختم ہوچکا ہے۔

اس کے علاوہ جنگ بندی کی وجہ سے جھڑپوں کا سلسلہ بھی تقریبا رک چکا ہے اور صرف دہشت گرد گروہ داعش اور جبھۃ النصرہ کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ جبکہ جنیوا اجلاس کے موقع پر شام میں لڑائی مسلسل جاری تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آستانہ اجلاس میں شریک ہونے والے فریق جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ وہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ایک جامع اور منطقی اور جامع معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

ترکی بھی اب شام میں مثبت کردار  ادا کر سکتا ہے کیونکہ وہ بھی اس بات کو سمجھ چکا ہے کہ جب تک شام میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کی اپنی سرزمین میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ ان تمام عناصر سے پتہ چلتا ہے کہ شام کا بحران خاص پیچیدگیوں کا حامل ہے۔

بہرحال یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ ترکی ، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک مداخلت پر مبنی اور بحران پیدا کرنے والے اپنے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس کے باوجود شام میں پائیدار امن قائم ہوجائے ۔ البتہ آستانہ مذاکرات شام کو امن و سلامتی سے ہمکنار کر سکتے ہیں بشرطیکہ امریکہ اور خطے کے بعض ممالک اپنی سابقہ پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔