افغانستان اور ازبکستان کے تعلقات میںی فروغ
افغانستان اور ازبکستان کے وزرا خارجہ نے باہمی تعاون میں فروغ لانے کے لئے تعاون کے پانچ دستاویزات پر دستخط کئے ہیں۔
افغانستان اور ازبکستان کے وزرا خارجہ نے باہمی تعاون میں فروغ لانے کے لئے تعاون کے پانچ دستاویزات پر دستخط کئے ہیں۔ ان دستاویزات پرانسداد منشیات، نقل و حمل زمینی، سکیورٹی، نقشہ برداری اور سفارتی امور میں تعاون کے لئے دستخط کئے گئے ہیں۔ ان دستاویزات پر افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور ازبک وزیر خارجہ عبدالعزیز کاملوف نے افغاں صدر اشرف غنی کی موجودگی میں دستخط کئے ہیں۔فریقین نے امید کا اظہار کیا ہے کہ ان سمجھوتوں سے کابل اور تاشقند کے تعلقات میں فروغ آئے گا۔ افغانستان کے تعلقات پر اثر انداز ہونے والے ہمسایہ ممالک اور بعض اقوام ہیں جو سرحدکے دونوں طرف بستی ہیں۔ ازبک قوم بھی افغانستان کے تعلقات پر کافی گہرے ا ثرات رکھتی ہے اس کی وجہ سے ازبکستان نہ صرف افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامل ہے بلکہ ایک طرح سے افغانستان کے حالات پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ پشتون، تاجیک، اور ہزارہ اقوام کے بعد ازبک قوم ہے جس کے افراد کی تعداد تقریبا بیس لاکھ ہے اور جو افغانستان کے شمالی علاقے میں زندگی گذارتے ہیں، یہ افغانستان کی ترک نژاد قوم ہے۔ بلخ اور بخارا کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات سے عوامی رابطوں اور سرحدی تعاون میں فروغ آیا ہے۔ اسی بنا پر ازبکستان کے وزیر خارجہ کا دورہ افغانستان اور پانچ سمجھوتوں پر دستخط کرنا یہ ظاہر کرتا ہے ازبکستان کریم اف کے بعد اپنی سیاسی تبدیلیوں کے نئے دور میں اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک سڑک ٹرانسپورٹ کے میدان میں بھی تعاون کریں گے اس کے علاوہ بنیادی تنصیباب بنانے میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔کابل اور تاشقند کو انتہا پسند، دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ سے بھی تشویش لاحق ہے ۔ افغانستان یہ کوشش کررہا ہے کہ وہ مصنوعات کی ٹرانزیٹ کے لئےازبکستان کا راستہ اپنائے اور اسی راستے اپنی چیزیں برآمد کرکے روس اور یورپ کے لئے بھیجے۔ ادھر حکومت کابل کا یہ خیال ہے کہ اسکی سرزمین ہمسایہ ملکوں کے لئے ازبکستان کی مصنوعات برآمد کرنے کا اچھا راستہ ہے۔ اس کے باوجود افغانستان و ازبکستان دوطرفہ اقتصادی تعاون اور مصنوعات کے ٹرانزیٹ میں سکیوریٹی مسائل سے دوچار ہیں کیونکہ دونوں کو دہشتگردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسی لعنتوں کا سامنا ہے، البتہ افغانستان ان مسائل کا زیادہ سامنا ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ شدت پسند گروہوں کی کاروائیاں شمالی افغانستان تک پھیل گئی ہیں جس کی وجہ سے مرکزی ایشیا کے ملکوں کو افغانستان سے دہشتگردی کے اپنے ملکوں میں پھیلنے کا خدشہ لاحق ہوچکا ہے۔ بالخصوص اس وجہ سے بھی یہ تشویش لاحق ہوچکی ہے کہ امریکہ شام و عراق سے داعش کے دہشتگردوں کو افغانستان بھیجنا چاہتا ہے تا کہ ان کی تنظیم نو کرکے انہیں مرکزی ایشیا اور قففاز نیز چین کی سرحدوں تک بھیج سکے۔ اسی وجہ سے اس علاقے کے ممالک منجملہ ازبکستان افغانستان کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحدوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔چونکہ افغانستان اپنے ہمسایہ ملکوں کی اس تشویش سے آگاہ ہے لھذا صلاح الدین ربانی نے ازبکستان کے ساتھ تعاون کے دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاشقند کے ساتھ تعاون میں توسیع لانے کا مقصد یہ ہے کہ انسداد منشیات اور دیگر مشترکہ سکیورٹی خطرات کو کابل کی خارجہ پالیسی میں سر فہرست رکھا جائے۔