امن عمل پر کابل حکومت کی پابندی پر تاکید
طالبان کے حملوں میں شدت پیدا ہونے اور افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کی جانب سے طالبان کے خلاف بھرپور جنگ کے حکم کے باوجود اس ملک کی متحدہ قومی حکومت کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ حکومت کے مخالفین کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے ہوئے ہیں۔
عبداللہ عبداللہ نے کابل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معاون مرسلاف جینکا سے ملاقات کے دوران کہا کہ افغانستان میں سیاسی صورتحال مستحکم لیکن پیچیدہ ہے۔ اس کے باوجود متحدہ قومی حکومت مخالفین کے ساتھ مذاکرات کے اپنے وعدے پر عملدرآمد کی پابند ہے۔عبداللہ عبداللہ نے افغان فوجیوں کی حمایت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی تاکید کی کہ افغانستان میں طالبان اور دہشت گردوں کے منصوبے ناکام ہوچکے ہیں اور اس ملک کی متحدہ قومی حکومت امن عمل کو جاری رکھنے کی پابند ہے۔ مرسلاف جینکا نے بھی اس ملاقات میں اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان کی حکومت اور قوم کی حمایت جاری رکھنے پر تاکید کی۔ افغانستان کی متحدہ قومی حکومت کے چیف ایگزیکٹیو کی جانب سے اس ملک میں امن عمل کی حمایت کئے جانے سے اس افواہ کا غلط ہونا واضح ہوجاتا ہے کہ عبداللہ عبداللہ اور ان کی پارٹی طالبان کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھانے کے خلاف ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معاون کی موجودگی میں امن عمل پر تاکید کی اور اس بات کا اظہار کیا کہ مخالفین کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہوا ہے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ افغانستان میں قیام امن کے لئے مسلح مخالفین کے ساتھ مذاکرات کےبارے میں قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ ماضی میں افغان عوام پر جنگ مسلط کی گئی اور اب اس ملک کی تعمیر نو کے لئے باہمی تعاون کا زمانہ ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب افغانستان میں امن عمل کے بعض مخالفین عبداللہ عبداللہ اور ان کی پارٹی پر افغانستان میں داخلی اختلافات کو ہوا دینے اور افغان امن عمل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام لگاتے ہیں۔ دریں اثناء افغانستان کی متحدہ قومی حکومت کے چیف ایگزیکٹیو کی جانب سے اس بات پر تاکید کہ جنگی میدان میں طالبان کی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں اس گروہ کے لئے اپنے اندر یہ پیغام لئے ہوئے ہے کہ طالبان کے لئے جنگ کے ذریعے کابل پر قبضہ کرنا اب ممکن نہیں رہا ہے بلکہ جنگ افغانستان کےبحران کا حل نہیں ہے۔ افغانستان کی حکومت اور حکمتیار کی حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے پر دستخط بھی ایک طرح سے اس پارٹی کی دور اندیشی نمایاں ہوئی ہے اور اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ پارٹی جنگ سے بچنے پر مبنی افغان عوام کے مطالبے کو تسلیم کر چکی ہے۔ بنابریں افغان عوام کی امن پسندی کے خلاف طالبان کی مزاحمت کا اس گروہ کو نہ صرف کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ افغان عوام خصوصا پختونوں میں اس کی ساکھ شدید نقصان پہنچے گا۔ افغان حکام کے نزدیک اقوام متحدہ کو دنیا میں امن کےمحافظ واحد بین الاقوامی ادارے کے طور پر افغانستان میں قیام امن میں مدد دینے کے زیادہ سرگرم کردار ادا کرنا چاہئے۔ البتہ امریکہ اور نیٹو کی پالیسیوں کی وجہ سےافغانستان میں اقوام متحدہ کا کردار بہت ہی کمزور ہے لیکن ابھی تک افغانستان میں مثبت اثرات مرتب کرنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے پاس بہت سے وسائل و امکانات موجود ہیں اور یہ ادارہ افغانستان کے بارے میں لاتعلقی کی کیفیت سے باہر نکل کر اور واضح اور موثر پالیسیوں اور منصوبوں کے ذریعے افغانستان کے امن عمل کے سلسلے میں سرگرم کردار ادا کرسکتا ہے۔