فلسطینی انتفاضہ کی حمایت میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i269435-فلسطینی_انتفاضہ_کی_حمایت_میں_چھٹی_بین_الاقوامی_کانفرنس_کا_انعقاد
فلسطینی انتفاضہ کی حمایت میں بیس فروری کو چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس میں مختلف ممالک کی پارلیمانوں کے اسپیکر، اراکین، شخصیات اور علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے اور سیکرٹری جنرل شرکت کریں گے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۲۶, ۲۰۱۷ ۱۰:۵۹ Asia/Tehran
  • فلسطینی انتفاضہ کی حمایت میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

فلسطینی انتفاضہ کی حمایت میں بیس فروری کو چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس میں مختلف ممالک کی پارلیمانوں کے اسپیکر، اراکین، شخصیات اور علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے اور سیکرٹری جنرل شرکت کریں گے۔

اس مقصد کے لئے تہران کے نمائندے مختلف ممالک کے حکام اور شخصیات کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں انتفاضۂ فلسطین کی حمایت کی بین الاقوامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل حسین امیر عبداللہیان نے لبنان میں اس ملک کے حکام سے ملاقات کی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے بھی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی کی جانب سے اسلام آباد میں پاکستانی حکام کو اس کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ دیا ہے۔

انتفاضہ فلسطین کی حمایت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فلسطینی عوام کے اسلامی انقلاب کی حمایت سے متعلق بنائے جانےوالے قانون کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس قانون میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے مظلوم، پناہ گزین اور مجاہد فلسطینیوں کے دفاع اور حمایت کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایرانی پارلیمنٹ کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کی بازیابی تک ان کی حمایت کا دائرہ بڑھائےاور مناسب مواقع پر اسلامی ممالک کے نمائندوں اور صاحب الرائے افراد کی شرکت کے ساتھ کانفرنسوں کا انعقاد کرے۔

تمام مظلوم قوموں کے تمام حقوق کی حمایت اسلامی جمہوری نظام کا اٹل اصول ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے خطے کو داعش کی دہشت گردی اور انتہا پسندی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ امریکہ ،اسرائیل اور خطے کے بعض ممالک خصوصا سعودی عرب کا یہ ساری صورتحال پیدا کرنے کا ایک مقصد مسئلہ فلسطین کو کنارے لگانے سے عبارت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شام کے بحران کا حل بھی ایک ضرورت ہے۔ لیکن یہ کوششیں مسئلہ فلسطین کے بھلائے جانے پر منتج نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ مسئلہ فلسطین اسلامی دنیا کا سب سے پہلا مسئلہ ہے۔

حق کا دفاع اپنے اندر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران پر فلسطینی قوم کے پامال شدہ حقوق کے سلسلے میں واضح ذمےداری عائد ہوتی ہے بلکہ وہ عراق، شام، یمن، بحرین، میانمار اور کسی بھی دوسری جگہ ظلم وستم کا شکار ہونے والوں کے سلسلے میں بھی ذمےداری کا احساس رکھتا ہے۔ ایران کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ ایران بحرانوں کے حل کے سلسلے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس سلسلے میں دہشت گردانہ افکار و نظریات کے مقابلے کے راستے پر گامزن ہے۔ اور وہ پوری طاقت اور مضبوط ارادے کے ساتھ استقامتی گروہوں کی مدد بھی کر رہا ہے اور مظلوم اقوام کے حقوق کے دفاع سے متعلق اسلامی جمہوری نظام اور انقلاب کی اقدار میں کبھی بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد صیہونی حکومت خطے میں اپنی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے۔ اسرائیل موقع سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کر رہا ہے اور وہ فلسطینی قوم کو تباہ کرنے کے لئے علاقائی اور عالمی حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ان حالات میں تفرقہ ڈالنے والے تمام غیر ضروری مسائل کو بالائے طاق رکھ دیا جانا چاہئے اور فلسطینی قوم کی حمایت میں اسلامی دنیا کی سافٹ پاور (Soft Power) کے طور پر اتحاد بین المسلمین کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ انتفاضہ فلسطین کی حمایت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد اس کلیدی نکتے پر تاکید ہے کہ مسئلہ فلسطین اور فلسطین کی حمایت بدستور اسلامی دنیا کی سب سے پہلی ترجیح ہے۔