اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا دورہ اسلام آباد
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا دورہ اسلام آباد اور اعلی حکام سے ملاقاتیں
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ پاکستان میں اس ملک کے اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں جبکہ اس موقع پر پاک ایران سرحد پر دہشتگردوں کے حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
اس دورے کا بنیادی مقصد پاک ایران سرحد پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے کا سیاسی،فوجی اور سلامتی کے زاویوں سے جائزہ لینا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اس طرح کے وفود کا تبادلہ ہوا ہے تاہم ایران کے وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ پاک ایران سرحد پر چند دن پہلے دہشتگردی کا نشانہ بننے والے ایران کے بارڈر سیکورٹی فورس کے نو اہلکاروں کی شہادت پر مرکوز رہا ہے۔ اس حملے میں نو سرحدی محافظین شہید اور ایک شدید زخمی ہوا تھا جسے پاکستان کے علاقے میں اغوا کرکے لے جایا گیا ہے۔ جیش الظلم نامی دہشگرد تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس حملے کے ردعمل میں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے قومی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ کو اس مسئلہ کو سنجیدگی سے اٹھانے کا حکم دیا ہے تاکہ اس طرح کے بزدلانہ واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔ انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف کے نام ایک پیغام میں بھی دہشتگردوں کی جانب سے ایرانی سرحدی محافظوں پر حملے کے لئے پاکستانی سرزمین کے غلط استعمال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے اس واقعے میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی طرف سے کئے جانے والوں وعدوں کے باوجود اس طرح کے واقعات دہرائے جارہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسطرح کے واقعات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ اور انہیں واضح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس واقعہ کا ایک اہم پہلو پاک ایران تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان طویل سرحد ہے۔۔اس کا دوسرا پہلو دہشتگردوں کا پاکستان کی سرحد سے ایرانی علاقے میں داخل ہونا ہے جسکی براہ راست زمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ایران کے سرحدی صوبے سیستان و بلوچستان میں اس سے پہلے بھی اسطرح کی دہشتگردانہ کاروائیاں ہوچکی ہیں اور دونوں ملکوں کے سیکوریٹی حکام کے ان موضوعات پر متعدد اجلاس بھی منعقد ہو چکے ہیں۔ایسی صورت حال میں ان واقعات کو اہمیت نہ دینا اور اسکی روک تھام کے لئے مؤثر اقدامات انجام نہ دینا صرف اور صرف دہشتگردوں اور شرپسندوں کے مفاد میں ہوگا اور پاکستان کو اس سے سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے ۔اس مسئلے کا تیسرا اہم پہلو ایران کی طرف سے اس مسئلے کی سنجیدہ پیروی اور ان واقعات کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینا ہے ایران کے وزیرخارجہ کے حالیہ دورہ کو بھی اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ایران اپنی سرحدوں کی سیکورٹی اور دہشتگردانہ کاروائیوں کے سد باب کے لئے نہایت سنجیدہ ہے لیکن اس سے حکومت اسلام آباد کی زمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔پاکستان کو بھی دوسرے ممالک کی طرح بین الاقوامی سرحدی پروٹوکول کے تناظر میں اپنی زمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اسطرح کے واقعات جن کا کئی بار تکرار ہوچکا ہے جوابدہ ہونا چآہیے۔ایران کے وزیر داخلہ اور انکے اعلی سطحی وفد کی پاکستانی وزیراعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چودھری نثار اور آرمی چیف قمر باجوہ سے ملاقاتوں کو اس تناظر اور اسی زاویہ نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔