ترک حکام کو امریکا کی کس پالیسی پر تشویش ہے؟
ترکی کے وزیر اعظم بن علی ییلدریم نے فائننشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے شام کے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (The People's Protection Units) کو مسلح کرنے پر مبنی امریکہ کے فیصلے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شام کے پیپلز پروٹیکشن یونٹس اور ڈیموکریٹک یونین پارٹی (The Democratic Union Party) ترکی کے لئے پی کے کے جیسے ہی ہیں۔
ییلدریم نے ترکی کے صدر کی اس بات کو دہرایا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ذریعے دوسری دہشت گرد تنظیم کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور انہوں نے مشرق وسطی سے متعلق امریکہ کی پالیسیوں پر ترکی کی تشویش اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ ترکی کے وزیر اعظم نے پی کے کے کے مقابلے کے لئے انقرہ اور واشنگٹن کے باہمی تعاون پر مبنی امریکہ کے وعدے کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رجب طیب اردوغان کی ملاقات کے موقع پر شام کی کرد فورس کو مسلح کئے جانے کا موضوع اٹھایا جائے گا اور انقرہ کو امید ہے کہ امریکی حکومت گولن گروپ کے بارے میں سابقہ حکومت کی غلطیوں کو شام میں داعش کے مقابلے کے سلسلے میں نہیں دہرائے گی۔
فائننشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ترکی کے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ رقہ آپریشن کے بعد پیپلز پروٹیکشن یونٹس اس شہر میں نہیں رہیں گے۔ شام کی جنگ کے حوالے سے ترکی کو یہ تشویش لاحق ہےکہ امریکہ کے حمایت یافتہ گروہ ان علاقوں میں باقی رہیں گے جہاں ان کے فوجی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ رقہ کی آزادی میں شرکت کی کوشش ترکی کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور ترک حکام کا خیال یہ ہے کہ رقہ، الباب اور منبج میں ترک فوجیوں کی موجودگی کی صورت میں ترکی شام کی صورتحال میں اپنا کردار ادا اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
اگرچہ ترکی کے صدر کے دورۂ امریکہ اور دونوں ممالک کے حکام کے مذاکرات سے شام میں ترکی کی سرگرمیوں کا دائرہ واضح ہوسکتا ہے لیکن شام کے کردوں کے ساتھ امریکہ کا تعاون اور اس فورس کا آئندہ کردار ایسا موضوع ہے جو بدستور ترک حکام کی تشویش کا باعث ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب ترکی نے الباب اور رقہ کے آپریشنوں میں داعش کے مقابلے کے نام پر اس بات کی پوری کوشش کی کہ شام کے کرد ان علاقوں میں ہر طرح کے آپریشن سے الگ رہیں۔ ترکی نے شام کے کردوں کو اپنے مطلوبہ علاقوں سے دور رکھنے اور ان کے لئے امریکہ کی سیاسی اور فوجی حمایت میں کمی لانے کے لئے رقہ آپریشن میں روس کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کیا۔
ییلدریم نے اس سے قبل میونخ سلامتی کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ ترکی براہ راست رقہ کی آزادی کے آپریشن میں شرکت نہیں کرے گا بلکہ صرف ٹیکٹیکل سپورٹ (Tactical Support) کرے گا اور وہ بھی صرف اتفاق رائے حاصل ہونے کی صورت میں۔ انہوں نے مقامی فورسز اور فری سیرین آرمی کو ایسے یونٹس قرار دیا تھا جن کو ترکی اور امریکہ کی سپورٹ حاصل ہوگی لیکن اب ترک حکام کو امریکہ کے حمایت یافتہ گروہوں کے مسلح کئے جانے اور اس علاقے میں ان کے باقی رہنے پر تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ ترکی ایک جانب امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کر رہا ہے اور دوسری جانب یہ آس لگائے بیٹھا ہے کہ امریکہ رقہ آپریشن میں شام کے کردوں کو شامل نہیں کرے گا۔