مغربی موصل میں داعش کی نابودی کی الٹی گنتی شروع
القیروان کے علاقے میں عراقی فوجیوں کی کامیابیوں کے ساتھ ہی عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی سنیچر کو عراقی فوج کی مشترکہ آپریشنل کمان کے ہیڈکوارٹر گئے اور موصل کے مغربی علاقے میں پیشقدمی کے عمل کا جائزہ لیا-
عراقی وزیر دفاع عرفان الحیالی نے بھی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس سے مغربی موصل میں ملاقات کی۔ اس وقت مغربی موصل کے القیروان علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔ شام کی سرحد سے پینتالیس کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع القیروان علاقے کو آزاد کرانے کی کاروائی، جمعے کی صبح سے شروع ہوئی اور الحشد الشعبی نے عراقی فوج کی مدد سے جمعے کا دن ختم ہونے تک القیروان کے اطراف میں واقع دس دیہاتوں اور علاقوں کو آزاد کرا لیا۔ عراقی فورسز نے القیروان علاقے میں " یامحمد رسول اللہ" (ص) نامی آپریشن کے دوسرے مرحلے میں شام کی سرحد اور البعاج کی سمت جانے والے داعش کے مواصلاتی اور امدادی راستوں کو منقطع کردیا ہے۔ عراق کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی موصل کا نوے فیصد سے زیادہ کا علاقہ داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے سے آزاد ہوگیا ہے اور ماہ مبارک رمضان سے قبل تک یہ اسٹریٹیجک شہر مکمل طورپر آزاد ہوجائے گا۔
القیروان کے علاقے میں عوامی رضاکار فورس کا کردار بہت اہم اور سرنوشت ساز ہے- عراق کے دیگر علاقوں میں اس سے قبل بھی داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے میں الحشد الشعبی کا کردار فیصلہ کن رہا ہے- عوامی رضاکار فورس بسیج نے ، عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں انتہائی مفید اور موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس نے مغربی موصل میں داعشیوں کا سانس لینا دوبھر کردیا ہے- ماہ مبارک رمضان سے قبل تک مغربی موصل کو مکمل طور پر داعش کے قبضے سے آزاد کرانے پر عراق کے فوجی کمانڈروں کی تاکید ، الحشد الشعبی کی موثر کاروائیوں اور داعش کے خلاف جنگ میں ان کے کردار پر اعتماد کے سبب ہے۔
مغربی موصل منجملہ شہر تلعفر، عراق میں داعش کا واحد ٹھکانہ ہے اور عراق کی مشترکہ فورسز کے عزم بالجزم کے باعث ، عنقریب ہی داعش کی نابودی حتمی اور یقینی ہوگئی ہے- یا محمد رسول اللہ نامی آپریشن کے دوسرے مرحلے کا اصلی مقصد القیروان علاقے میں داعش کو مکمل شکست دینا ہے اور اس کامیابی کا پیش خیمہ ، عراق اور شام کی سرحد پر داعش کا رابطہ منقطع ہوجانا ہے- اسی سلسلے میں عراق کی عوامی رضاکار فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس نے کہا ہے کہ شام سے ملحق عراق کی سرحد کو داعش پر بند کرنا اور اس پر تسلط حاصل کرنا، القیروان کے علاقے کو آزاد کرانے کی کاروائی کا ایک اہم مقصد ہے۔
ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے تک ، مغربی موصل کو آزاد کرانے میں عراق کی مشترکہ فورسز کی کامیابی ثابت کردے گی کہ عراقی فوج ، حکومت اور عوام ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختہ عزم و ارادے کے حامل ہیں اور ملکی یا غیرملکی عناصر کی جانب سے کسی قسم کی رخنہ اندازی یا کوئی بھی سازشی عمل، مغربی موصل میں داعش کی نابودی میں رکاوٹ نہیں بن سکے گا۔ عراقی ذرائع نے حال ہی میں رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی کارندے مغربی موصل میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں تاکہ مغربی موصل کی آزادی کا آپریشن کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکے۔ القیروان کے اسٹریٹیجک علاقے میں یا محمد رسول اللہ (ص) آپریشن کے دوسرے مرحلے کے پیش نظر اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ عراقی قوم داعش دہشت گردوں کی بیخ کنی میں پرعزم ہے اور عراق میں داعش کو باقی رکھنے سے متعلق کوششیں بے نتیجہ رہیں گی اور عنقریب موصل ان دہشت گردوں کے شر سے نجات حاصل کرلے گا۔