ایران کے ہتھیار یمن ارسال کئے جانے کا بے بنیاد دعوی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i282920-ایران_کے_ہتھیار_یمن_ارسال_کئے_جانے_کا_بے_بنیاد_دعوی
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار "العربی الجدیدہ" کے ساتھ گفتگو میں، یمن کے خلاف سعودی عرب کے جارحانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام کے پاس ہتھیار بہت زیادہ ہیں اور سعودی عرب اس حقیقت پر توجہ کئے بغیر یہ سوچ رہا تھا کہ وہ مختصر مدت میں سب کچھ اپنے فائدے میں تمام کرلے گا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۲:۳۳ Asia/Tehran
  • ایران کے ہتھیار یمن ارسال کئے جانے کا بے بنیاد دعوی

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار "العربی الجدیدہ" کے ساتھ گفتگو میں، یمن کے خلاف سعودی عرب کے جارحانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام کے پاس ہتھیار بہت زیادہ ہیں اور سعودی عرب اس حقیقت پر توجہ کئے بغیر یہ سوچ رہا تھا کہ وہ مختصر مدت میں سب کچھ اپنے فائدے میں تمام کرلے گا-

العالم کی رپورٹ کے مطابق بہرام قاسمی نے اس گفتگو میں یمن کو ایران کے ہتھیار ارسال کرنے اور اسلحہ جاتی مدد کرنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک ایران پر ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا الزام لگاتے ہیں جبکہ ایران جنگ یمن میں فوجی اور مالی مدد نہیں کر رہا ہے اور یمنیوں کو ایران کے ہتھیاروں کی ضرورت بھی نہیں ہے- 

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ ایران مخالف الزامات اور پالیسیوں کو بند کرے اور اسی صورت میں ہی تہران ریاض کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے لئے آمادہ ہے- ایران کے ذریعے یمن کو ہتھیار ترسیل کئے جانے کی خبر بعض اوقات علاقے کے ذرائع ابلاغ اور نیوز ایجنسیوں کی طرف سے منظرعام پر آتی رہتی ہے تاکہ اس بہانے سے وہ یمن میں ایران کی مداخلت کو ظاہرکریں لیکن آج تک اس طرح کے الزامات ثابت نہیں ہوسکے ہیں اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کی طرف سے یمنی گروہوں کو کسی بھی قسم کا ہتھیار ارسال نہیں کیا گیا ہے۔

ایک ایسے وقت جب امریکا اور علاقے کے  بعض عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب نے ایران پر سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کی خلاف ورزی اور یمنی گروہوں کو ہتھیار ارسال کرنے کا الزام عائد کیا تھا، اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسپیکٹروں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اپنی رپورٹ میں اعلان کیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ پکڑے گئے بحری جہازوں میں ایران کا کوئی ہتھیار ملا ہو یا ایران نے یمنی گروہوں کو ہتھیار فراہم کئے ہوں-

  اقوام متحدہ میں ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ سعودی عرب، اقوام متحدہ کے انسپیکٹروں کی اس رپورٹ سے سخت ناراض ہے اور اس کی کوشش ہے کہ  یہ رپورٹ سلامتی کونسل کی دستاویز کی حیثیت سے شا‏ئع نہ ہو- یمنی گروہوں کو ایران کی جانب سے ہتھیار فراہم کرنے پر مبنی امریکا اور سعودی عرب کے دعوؤں کا مقصد یمن کے مظلوم  اور نہتے شہریوں پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں کا جواز پیش کرنا ہے-

ایران سے یمنی گروہوں کے لئے ہتھیاروں کی سپلائی  کا الزام ایک ایسے وقت عائد کیا گیا ہے کہ جب  یمن کے مظلوم عوام کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کرنے کے لئے امریکی طیاروں اور ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور یمن میں سعودی عرب کے ہاتھوں ہولناک اور جنگی جرائم کے ارتکاب کے بعد سعودی عرب اور علاقے کے بعض دیگر عرب ملکوں  کے لئے امریکا اور مغربی ملکوں کے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے-

سعودی عرب نے گذشتہ دو برسوں کے دوران یمن کے خلاف وحشیانہ حملے کرتے ہوئے اس ملک کی اسّی فیصد سے زیادہ تنصیبات تباہ کردی ہیں اس کے باوجود اسے یمن کی عوامی مزاحمت سے سخت ہزیمت اٹھانی پڑی ہے -

اس لئے یمن کے مسئلے کا جائزہ ایک اور زاویے سے لینے کی ضرورت ہے- واضح  ہے کہ اس عمل میں یمن کی ارضی سالمیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سعودی عرب کا مقصد یمن پر قبضہ اور اس کے حصے بخرے کرنا اور یا اس کے بعض علاقوں کو سعودی عرب میں شامل کرنا ہے - سعودی عرب کے ٹیلیویژن چینل نے کچھ دنوں قبل ایک نقشہ شائع کیا تھا کہ جس میں یمن کے مقبوضہ علاقوں کو سعودی عرب کے ایک حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے اس لئے سعودی عرب کے پروپیگنڈے موجودہ حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے-

مسلّمہ امر یہ ہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ نے علاقے کو بدامنی سے دوچار کردیا ہے- یمن پر سعودی اتحاد کے حملے، دہشت گردی کے فروغ اور دسیوں ہزار افراد کے بے گھر ہونے کا باعث بنے ہیں - یمن کے عوام اور قائدین نے اپنی استقامت کے ذریعے جارحین کو پیشقدمی سے روک دیا ہے- یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ ایران کو، علاقے میں ایک طاقتور ملک اور تعمیری کردار ادا کرنے والے ملک کی حیثیت سے علاقے کے ملکوں کے مسائل میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے- اسلامی جمہوریہ ایران نے جس طرح شام کے بحران کے لئے سیاسی راہ حل کی حمایت کی ہے، یمن کے بارے میں بھی وہ سیاسی راہ حل کی ہی حمایت کرتا ہے-