وائٹ ہاؤس اور ریکس ٹیلر سن کے درمیان اختلافات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i288972-وائٹ_ہاؤس_اور_ریکس_ٹیلر_سن_کے_درمیان_اختلافات
امریکی ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن میلر اور اس ملک کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کی خبر دی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۰۳, ۲۰۱۷ ۱۰:۲۳ Asia/Tehran
  • وائٹ ہاؤس اور ریکس ٹیلر سن کے درمیان اختلافات

امریکی ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن میلر اور اس ملک کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کی خبر دی ہے۔

ان رپورٹوں کے مطابق ان دو امریکی عہدیداروں کے درمیان ہونے والا مباحثہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی پر منتج ہوا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد ذرائع ابلاغ نے قیاس آرائی کی ہے کہ آخرکار ڈونلڈ ٹرمپ ریکس ٹیلرسن کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیں گے اور ان کی جگہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی موجودہ سفیر نکی ہیلی کو وزیر خارجہ بنا دیں گے۔ ریکس ٹیلرسن اور اسٹیفن میلر کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کے مختلف اسباب بیان کئے جا رہے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کے سینئیر مشیر سابقہ حکومتوں سے بڑھ کر وزارت خارجہ پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔ ریکس ٹیلرسن ایکسن موبل کارپوریشن  (Exxon Mobil Corporation) کے سربراہ تھے اور ان کو سفارتکاری کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ان کو ٹرمپ نے وزارت خارجہ کا قلمدان سونپ دیا جس سے اس گمان کو تقویت ملی تھی کہ ٹرمپ وزارت خارجہ پر اپنا کنٹرول زیادہ سے زیادہ رکھنا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے وزارت خارجہ کے بجٹ میں اچانک تقریبا پینتیس فیصد کمی کر دی جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس وزارت کو سفارتکاری کے سلسلے میں جو فرائض سونپے گئے ہیں وہ ٹرمپ کے لئے زیادہ قابل توجہ نہیں ہیں۔

ان تمام امور کے باوجود شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ قطر اور خلیج فارس کے جنوبی ساحلی علاقے میں واقع اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی ٹیلرسن اور وائٹ ہاؤس کی کشمکش کا سبب بنی ہے۔  ریاض اور دوحہ کا سیاسی بحران شروع ہوتے ہی ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں قطر کی حکومت پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا اور سعودی عرب کی جانبداری کی تھی۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ٹیلرسن نے اس بحران کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فریقین کو برداشت سے کام لینے کی دعوت دی اور بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد امریکی وزارت جنگ نے بھی اسی موقف کی حمایت کی۔ لیکن ٹرمپ  نے بعد والے دنوں میں اپنے موقف پر اصرار کیا اور قطر کے مقابلے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے موقف کی حمایت جاری رکھی۔

امریکی وزیرخارجہ کے ایک قریبی مصنف مارک پیری (Mark Perry)نے اس سلسلے میں کہا ہےکہ ٹیلرسن کو نہ صرف ٹرمپ کے بیانات پر تعجب ہوا بلکہ ان کو اس بات پر سخت غصہ بھی آیا کہ وائٹ ہاؤس اور وزارت خارجہ کے موقف ایک جیسے کیوں نہیں ہیں۔

ان واقعات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کے تعلقات میں آنے والی کشیدگی امریکی حکومت کے اندر اختلافات پیدا ہونے کا سبب بنی ہے۔ اب ایسا نظر آتا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر اس ملک کے ساتھ امریکہ  کے چار سو ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں کی وجہ سے وائٹ ہاؤس میں سعودی عرب کے حامیوں کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہوگئی ہے اور وہ ریکس ٹیلرسن کو نکال باہر کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

ایسا ہونے کی صورت میں امریکہ کی موجودہ حکومت کی علاقائی پالیسیاں سعودی حکام کی پالیسیوں سے زیادہ قریب ہوجائیں گی۔ اس کے علاوہ واشنگٹن میں جاری طاقت کی اس جنگ میں روس مخالف دھڑا بھی وزیر خارجہ کی برطرفی پر خوش ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دوست کے طور پر مشہور ہیں۔