امریکہ دہشت گردی کا حامی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i291042-امریکہ_دہشت_گردی_کا_حامی
امریکی وزارت خارجہ نے ماضی کی طرح دہشت گرد گروہوں کے حامی ممالک کے بارے میں رپورٹ جاری اور امریکی کانگریس میں پیش کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۱:۵۰ Asia/Tehran
  • امریکہ دہشت گردی کا حامی

امریکی وزارت خارجہ نے ماضی کی طرح دہشت گرد گروہوں کے حامی ممالک کے بارے میں رپورٹ جاری اور امریکی کانگریس میں پیش کی ہے۔

اس رپورٹ میں دہشت گردی کے حامی ممالک اور تنظیموں کی فہرست اور ان پر عائد پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسی کہ امید تھی امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنانے والے اور اس کے مخالف ممالک اور تنظیموں پر ہی دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا گیا ہے اور اس فہرست میں ایران، شام اور سوڈان کا نام واشنگٹن کے مطابق دہشت گردی کے سب سے بڑے حامیوں میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ خود امریکہ ہر ملک سے زیادہ  دہشت گرد گروہوں کا حامی رہا ہے اور ان گروہوں کو جنم دینے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

حکومت امریکہ کے دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان میں سوویت یونین کی سرخ فوج کے مقابلے کے لئے سنہ 1980 کے عشرے میں امریکی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹوں کے ذریعہ القاعدہ گروہ وجود میں آیا۔ نصف صدی کے بعد دور حاضر کے خطرناک ترین گروہ یعنی داعش کو وجود میں لانے کے لئے بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا تاکہ مغربی ایشیا کے علاقے میں، بقول امریکہ کے، ایران اور شیعوں کے اثرو وسوخ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بارہا سابق امریکی صدر کو داعش گروہ کو وجود میں لانے کا راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ادھر ایک امریکی صحافی مائیکل جونز کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے میں امریکہ خاص منصوبوں پر عمل درآمد کا خواہاں ہے اور امریکی وزارت خارجہ کی تازہ رپورٹ امریکہ کے خاص نظریات کی حامل ہے، حقائق پر مبنی نہیں۔ مائیکل جونز نے مزید کہا کہ امریکہ نے علاقے میں نیابتی جنگیں چھیڑ رکھی ہیں اور ان جنگوں کے لئے وہ دہشت گردوں کو استعمال کر رہا ہے۔ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوا ہے نیابتی جنگوں کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہی دہشت گرد گروہ اپنے حامی ممالک کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں۔

امریکہ کے سربراہ مملکت کی طرف سے مشتبہ افراد  کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کا حکم، وہ بھی عدالتی کارروائی کے بغیر، دنیا کے گوشہ و کنار میں امریکی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔ ان حملوں میں، جو عام طور سے امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعہ انجام پاتے ہیں، دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کے ملزمین کے علاوہ دسیوں عام شہری مارے جاتے ہیں، جن میں عورتیں، مرد اور بچے بھی شامل ہیں۔

اسی طرح امریکہ کی طرف سے صیہونی حکومت اور سعودی عرب جیسے دہشت گردی کے حامی ممالک کی حمایت دہشت گردی کے بارے میں دیگر ممالک کی کارکردگی سے متعلق فیصلے میں امریکہ کی ہر طرح کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ ایک طرف حکومت امریکہ دہشت گردوں کی حامی حکومتوں کی فوجی و مالی مدد منقطع کرنے کو ضروری قرار دیتی ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ، وہ ملک کہ جس کا نام گیارہ ستمبر کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کی طرف سے دائر کئے گئے کیس اور دنیا کے گوشہ و کنار میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کی مالی مدد کرنے والوں میں شامل ہے، کئی سو ارب ڈالر کے معاہدے کرتا ہے۔

بہرحال، اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی سے مقابلہ اور امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے دہشت گردی کے حامی ممالک کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کرنا دنیا میں امریکہ کی ڈپلومیسی کو آگے بڑھانے کا ایک حربہ ہے اور اگر دہشت گردی کے حامی ممالک کی نشاندہی میں امریکی سچے ہوتے تو سب سے پہلے اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکہ کا نام لکھتے اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ ہر طرح کا تعاون منقطع کرتے لیکن امریکہ کی تابعداری نہ کرنے والے ہر ملک اور ہر تنظیم کو امریکی وزارت خارجہ کی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جاتا ہے۔