عراق کے سلسلے میں آل سعود کی نئی پر فریب سفارتکاری
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i294678-عراق_کے_سلسلے_میں_آل_سعود_کی_نئی_پر_فریب_سفارتکاری
عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے کہا ہے کہ آل سعود حکومت نے نفسیاتی محاصرے سے نجات پانے کے لئے عراق کا سہارا لیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۹, ۲۰۱۷ ۰۹:۱۹ Asia/Tehran
  • عراق کے سلسلے میں آل سعود کی نئی پر فریب سفارتکاری

عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے کہا ہے کہ آل سعود حکومت نے نفسیاتی محاصرے سے نجات پانے کے لئے عراق کا سہارا لیا ہے۔

احمد الاسدی نے مزید کہا کہ سعودی حکام یمن میں شکست کھانے سمیت اپنی مشکلات سے نجات پانے کے لئے عراق کے قریب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کو ہونے والی شکستوں کے علاقائی اور عالمی سطح پر آل سعود حکام کے لئے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے خطے میں جنگ پسندی اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی پالیسی کو عملی جامہ پہنایا اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر کے خطے میں بدامنی کو ہوا دی جس کی وجہ سے خطے میں سعودی عرب کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور عالمی سطح پر بھی اسے تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے یہاں تک کہ خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ میں بھی سعودی عرب کا اثر و رسوخ زیادہ نہیں رہ گیا ہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات سے اسی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہی حالات کی وجہ سے سعودی عرب بعض عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے پر مجبور ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران سعودی عرب اور عراق کے تعلقات میں سردمہری کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کے دورۂ عراق کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بظاہر بہتری آنی شروع ہوئی ہے۔ لیکن قرائن اور سعودی عرب کی مداخلت کے نئے طریقے اور سازش سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عراق کو بدستور  آل سعود کی پرفریب سفارتکاری کا سامنا ہے۔ اس سے قبل عراق میں سعودی عرب کے سفارت خانے کی سرگرمیاں عراق کے قومی مفادات کے دائرہ کار میں نہیں تھیں۔ آخرکار بغداد میں سعودی عرب کے سفیر ثامر السہبان کو عراق کے داخلی امور میں مداخلت کی وجہ سے اس ملک سے نکال دیا گیا۔ بغداد میں سعودی عرب کے سابق سفیر نے بارہا عراق کی عوامی رضاکار فورس پر یکطرفہ اقدامات انجام دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

یہ ایسی حالت میں تھا کہ جب عراق کے مختلف ذرائع نے دہشت گرد گروہ داعش کے ساتھ ثامر السہبان کے تعلقات کی خبر دی تھی۔ خطے خصوصا عراق میں اپنی پالیسیوں کو ناکامی سے دوچار ہوتے دیکھنے والا سعودی عرب اب مختلف حربوں کے ذریعے عراق میں اپنی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے اور عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کی بیخ کنی کے بعد اپنی مخاصمانہ اور سازش پر مبنی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے درپے ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب عراق کے مختلف علاقوں میں فتنہ و فساد پیدا کرنے اور اس ملک کے عوام کے مختلف طبقات کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے مقصد سے اپنا اثر رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ عراق کے علاقے کردستان کے حکام کے ساتھ سعودی عرب کا اشتراک عمل نیز نجف اشرف میں قونصل خانہ کھولنے اور مقتدی صدر جیسی عراقی شخصیات کے ساتھ مشاورت جیسے اقدامات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ سعودی عرب عراق میں گہری سازش کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اس بات کو بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ہوتے ہوئے آل سعود کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ عراق میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس لئے آل سعود حکام عراق میں اپنی مداخلت کے دوسرے مرحلے میں الحشد الشعبی کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے اسے کالعدم قرار دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران عراق میں بدامنی کے واقعات خصوصا صدر گروہ کے حکومت مخالف مظاہروں میں شدت پیدا ہوئی اور یہ شدت خاص کر بغداد میں سعودی عرب کی مشکوک سفارتی سرگرمیوں کے بعد پیدا ہوئی۔ اس کے علاوہ اربیل میں سعودی عرب کا قونصل خانہ کھولے جانے کے بعد عراق کے کردستان علاقے اور بغداد  کی مرکزی حکومت کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔ خطے کی صورتحال کے پیش نظر عراق کی سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے لئے ضروری ہوچکا ہے کہ وہ سعودی عرب کی پرفریب سفارتکاری کے سلسلے میں بہت احتیاط سےکام لیں۔