مشرقی افغانستان کے عمائدین کا امریکہ کے خلاف احتجاج
مشرقی افغانستان میں واقع صوبہ ننگرہار کے شہر شینواری کے عمائدین نے اعلان کیا ہےکہ داعش دہشت گرد گروہ کے ساتھ مقابلے کے بہانے، امریکی ڈرون طیارے اس صوبے کے بے گناہ عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں-
شینواری کے عمائدین نے سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ امریکی داعش کے مقابلے کے بہانے عوام کا قتل عام کر رہے ہیں تاکہ وہ لوگ جو دیہی علاقوں میں باقی رہ گئے ہیں وہ بھی فرار کرجائیں- افغانستان کے مختلف علاقوں پر امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کے وسیع پیمانے پر دوبارہ شروع کئے جانے کے خلاف عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے- افغانستان کے مختلف علاقوں پر امریکہ کے ڈرون طیاروں کے حملوں میں زیادہ تر عام افراد ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں- صوبہ ننگرہار کا شمار افغانستان کے بدامن علاقوں میں ہوتا ہے کہ جہاں غیرملکی فوجیوں ، طالبان اور داعش دہشت گرد گروہ کے سیکڑوں فوجی اور غیر فوجی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں-
سن 2001 سے جب سے امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے طالبان سے مقابلے اور ان کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے بہانے، امریکہ بہت زیادہ جرائم کا مرتکب ہوا ہے- 2014 میں افغان عوام کے وسیع پیمانے پر کئے جانے والے احتجاج کے بعد، امریکہ نے ان حملوں کو بند کردیا تھا اور اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی فوج کی ایک بڑی تعداد کو افغانستان سے نکال لیا تھا- لیکن افغانستان میں داعش دہشت گرد گروہ کی موجودگی نے واشنگٹن کے لئے ایک مناسب بہانہ فراہم کردیا ہے تاکہ وہ ایک بار پھر افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرے اور فوجی آپریشنز میں حصہ لے-
امریکہ نے دہشت گردی سے مقابلے اور طالبان اور القاعدہ کو نابود کرنے کے بہانے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کرلیا تھا- پھر نیٹو تنظیم کو آپریشنل بازو کے طور پر افغانستان میں تعینات کیا اور دوہزار چودہ تک امریکہ اور نیٹو کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی تعینات ہوگئے- اس سال تک طالبان سے مقابلہ، امریکہ کا اہم ترین ہدف تھا- لیکن امریکی فورسز کے جانی نقصان میں اضافہ اور افغانستان میں عوامی احتجاجات میں شدت اس بات کا باعث بنی کہ افغانستان ، امریکہ کے لئے ایک ویتنام میں تبدیل ہوجائے- امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے افغانستان کے دلدل سے خود کو نکالنے کے لئے اعلان کیا کہ امریکہ کے بیشتر فوجی 2014 تک افغانستان سے خارج ہونا شروع ہوجائیں گے اور دوہزار سولہ تک سبھی امریکی فوجی افغانستان سے نکل جائیں گے- کابل واشنگٹن سیکورٹی معاہدے کی رو سے بھی امریکہ کو چاہئے کہ وہ صرف افغان نیشنل فورسز کی ٹریننگ اور اسے مسلح کرنے میں فعال ہو-
افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں کا دوبارہ آغاز، امریکہ کی جانب سے اس ملک کی قومی حاکمیت اور اس ملک کی آزادی و خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے- سابق صدر حامد کرزئی کے دور صدارت میں افغانستان کی وزارت دفاع اور اس ملک میں تعینات امریکی فوجی کمان کے درمیان جس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے اس کی رو سے امریکی فورسز کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر کاروائی سے پہلے افغان فوج کے ساتھ ہم آہنگ کرے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ افغان فوج ہرگز اپنے ملک میں ایسی کاروائی کی اجازت نہیں دے گی جو اس ملک میں داعش کی موجودگی میں اضافے کا باعث بنے-
امریکہ کو افغانستان میں اپنے فوجیوں کو واپس لانے کے لئے کسی بہانے کی تلاش تھی کہ اس درمیان افغانستان میں داعش ابھر کر سامنے آگئے- امریکہ نے اس دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے بہانے دوبارہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں اپنے فوجی تعینات کردیئے- بہر صورت امریکہ افغانستان میں اپنی اسٹریٹیجی تبدیل کرکے اس کوشش میں ہے کہ فوج کو استعمال کرنے کے بجائے بلیک واٹر جیسی نجی سیکورٹی کمپنیوں سے استفادہ کرے اور اس کے معنی افغانستان میں جرائم میں مزید اضافہ کرنا ہے- کیوں کہ یہ کمپنیاں بہت سے ایجنٹوں کے ذریعے افغانستان میں بہت زیادہ جرائم کی مرتکب ہوئی ہیں کہ جن پر سابق صدر حامد کرزئی نے بارہا نکتہ چینی کی ہے-