پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توسیع، حکومت ایران کی اہم ترجیح
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف، اتوار کو پارلمینٹ، مجلس شورائے اسلامی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرکے ایک بار پھر وزیر خارجہ منتخب ہوگئے-
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کل رات ایران کے ٹیلی ویژن چینل دو سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی خارجہ پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کا فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی میدانوں میں اسلامی جمہوری نظام کا اقتدار اور اسے متحرک برقرار رکھنا ، ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے- جواد ظریف نے اس گفتگو میں علاقائی سطح پر پیدا ہونے والی بدامنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل سمیت اس کے اتحادی، دہشتگرد گروہوں کی تشکیل اور ان کی حمایت سے علاقے میں بدامنی اور شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں امن کی ضرورت ہے اور ایران ایک ایسا ملک ہے کہ جسے اپنے امن کے تحفظ کے لئے کسی بھی بیرونی ملک کی حمایت کی ضرورت نہیں ہے-
ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے بھی اتوار کو نامہ نگاروں کے اجتماع میں میزائل پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے دباؤ پر اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ دفاعی حکمت عملی، ملکی ضروریات کے مطابق ہوگی اور اس حوالے سے میزائل پروگرام کا فروغ بھی بدستور جاری رہے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ اور وزیردفاع کے بیانات موجودہ حقائق کی بنیاد پر اور اسلامی جمہوری نظام اور انقلابی اصولوں کی بنیاد پر ہیں اور ایران نے گذشتہ چار عشروں کے دوران سخت اور پرخطر دور میں مثلا مسلط کردہ جنگ کے دوران یا فوجی بغاوت اور یا سافٹ وار کے ذریعے ایران کے نظام کو ختم کرنے کی امریکیوں اور نظام کے دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور ان تمام حالات سے سرخرو ہوکر نکلا ہے - لیکن پھر بھی امریکہ نے اپنی دشمنی ختم نہیں کی اور وہ بدستور دہشت گرد گروہ منافقین جیسے گروہوں کی حمایت کرکے، ایران کی امن و سلامتی کو بدامنی سے دوچار کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہے-
امریکہ اسی طرح ایرانو فوبیا کے ذریعے ایران اور پڑوسی ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے ، اور ایران کو الگ تھلگ کرنےکی پالیسی پر عمل پیرا ہے- اس سلسلے میں امریکہ کے جملہ اقدامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایران کی دفاعی صلاحیت کو خطرہ بناکر پیش کر رہا ہے- حقیقت یہ ہے کہ آج ایران ایک ایسا ملک ہے کہ جس کے پڑوس کے ملکوں میں پائی جانے والی بدامنی کے باوجود، اعلی سطح پر امن قائم ہے اور اگر دشمن عناصر اور یا سلامتی کو نقصان پہنچانے والے افراد کسی طرح کی رخنہ اندازی یا شرارت کریں گے تو ایرانی عوام سے منھ کی کھائیں گے-
جواد ظریف کی اس امر پر تاکید کہ اسلامی جمہوری نظام اپنی قوت و اقتدار اور پیشرفت کے لئے اپنے عوام پر بھروسہ کرتا ہے، امریکہ کی تمام دشمنیوں اور خلاف ورزیوں کا واضح جواب ہے- جواد ظریف نے مزید کہا کہ علاقے میں ہماری کچھ خاص ذمہ داریاں ہیں - ہمارا ملک علاقے کی ایک ایسی طاقت ہے جو علاقے کو طاقتور اور پرامن بنانے کا خواہاں ہے-
بالفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں ، کسی بھی ملک میں مداخلت کو پسند نہیں کرتا بلکہ ایران اجتماعی امن وسلامتی اور استحکام کا خواہاں ہے- شام میں دہشت گردی سے مقابلے کے لئے روس کے ساتھ ایران کا موثر تعاون، اور داعش سے مقابلے کے لئے حکومت عراق کی مدد وحمایت نے ثابت کردیا ہے کہ علاقے میں ایران کی پالیسی صاف و شفاف ہے- ایران کبھی بھی دیگر ملکوں کے امور میں مداخلت کا درپے نہیں رہا ہے لیکن عالمی معاشرے کے ایک با اثر اور فعال رکن کی حیثیت سے، مظلوم قوموں کے دفاع میں مصروف ہے اور ایران اسے اپنی خارجہ پالیسی میں قدر و قیمت کا حامل اقدام سمجھتا ہے- واضح سی بات ہے کہ ان اصولوں کا تحفظ ، بدستور ایران کی خارجہ پالیسی اور پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی ایران کے مد نظر تھا اور رہے گا-