تلعفر کی آزادی اہم پیغامات کی حامل
عراق کے شہر تلعفر کی آزادی اہم پیغامات کی حامل ہے۔ "قادمون یا تلعفر" آپریشن کی کمان نے کل چھبیس اگست کو اعلان کیا کہ صوبہ نینوا میں واقع تلعفر کے انتیس میں سے ستائیس محلوں کو دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔ آج صبح تلعفر آپریشن کے کمانڈروں نے تاکید کی کہ شہر کا تقریبا پچانوے فیصد حصہ آزاد کرا لیا گیا ہے اور صرف شمالی الصناعی محلہ ہی دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے میں ہے۔
تلعفر کی آزادی کا آپریشن بیس اگست اتوار کے دن عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے حکم پر شروع کیا گیا۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ صرف ایک ہفتے کے دوران تلعفر شہر کی آزادی اپنے اندر کیا پیغامات لئے ہوئے ہے؟
صرف ایک ہفتے کے دوران تلعفر شہر کی آزادی کا سب سے اہم پیغام دہشت گرد گروہ داعش کی نابودی ہے۔ بجاطور پر کہا جاسکتا ہے کہ عراق کے جن علاقوں پر دہشت گرد گروہ داعش نے قبضہ کیا تھا ان میں سے تکریت، فلوجہ، الرمادی، موصل اور تلعفر زیادہ اسٹریٹیجک اور اہم شہر تھے۔ تکریت، فلوجہ اور الرمادی کی آزادی کا آپریشن ایک مہینے تک، موصل کی آزادی کا آپریشن سات ماہ تک لیکن تلعفر کی آزادی کا آپریشن صرف ایک ہفتے تک جاری رہا۔ موصل کی آزادی کے آپریشن کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ مغربی موصل کو سو دنوں میں جبکہ مشرقی موصل کو چار مہینوں میں آزاد کرایا گیا۔
ایک اہم نکتہ جس سے دہشت گرد گروہ داعش کی نابودی کی تصدیق ہوتی ہے یہ ہے کہ تلعفر کو ایسی حالت میں صرف ایک ہفتے کے دوران آزاد کرایا گیا ہے کہ اس شہر کا رقبہ تین ہزار دو سو کلومیٹر مربع پر پھیلا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہےکہ تلعفر کا رقبہ موصل سے دگنا ہے۔ اتنے وسیع رقبے کو ایک ہفتے کے اندر آزاد کئے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ داعشی عناصر کی تعداد کم ہوچکی ہے اور یہ گروہ کمزور ہو کر اپنی نابودی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ عراقی وزیر دفاع عرفان حیالی نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش زوال کا شکار ہے اور اب وہ عراقی فوجیوں کے سامنے کی ٹھہرنے کی سکت نہیں رکھتا ہے۔ عراق کی بدر تنظیم کے سربراہ ہادی العامری نے بھی بدھ کے دن کہا کہ دہشت گرد گروہ داعش کے عناصر نے مزاحمت نہیں کی ۔ ان کے حوصلے پست ہوچکے ہیں۔
تلعفر کی آزادی اپنے اندر دوسرا اہم پیغام یہ لئے ہوئے ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عراقی فوج کو دہشت گردی کے مقابلے کا تجربہ حاصل ہوگیا ہے اور اسی وجہ سے آپریشن میں جلد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ داعشی عناصر سمیت تمام دہشت گرد گروہ ایک خاص ماہیت کے حامل ہیں۔ وہ نہ تو منظم عسکری گروہ ہوتے ہیں اور نہ ہی چھاپہ مار گروہ ۔ یہ گروہ ایک طرح سے ہائبرڈ (hybrid) ہوتے ہیں۔ اس لئے بجاطور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت صرف عراق اور شام نیز اسلامی جمہوریہ ایران جیسے ممالک ، کہ جو دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں عراق اور شام کے ساتھ کھڑے ہیں، اس طرح کے دہشت گردوں کے مقابلے اور ان پر فتح پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ صلاحیت صرف نعروں کے ساتھ نہیں بلکہ دہشت گردی کے مقابلے کے سنجیدہ عزم کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ اس صلاحیت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس طرح کے مقابلے میں عام شہری بہت کم تعداد میں مارے جاتے یا زخمی ہوتے ہیں جبکہ امریکہ کی قیادت والے نام نہاد دہشت گردی مخالف اتحاد کے فضائی حملوں میں بہت بڑی تعداد میں عام شہری مارے جاتے اور زخمی ہوتے ہیں۔
بہرحال ایک ہفتے کے اندر کامیابی سے ہمکنار ہونے والے تلعفر آپریشن سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہےکہ دہشت گرد گروہ داعش کے زیر قبضہ دو دوسرے شہروں کی آزادی کے لئے کئے جانے والے الحویجہ اور القائم آپریشنوں کے دوران بھی بہت کم جانی نقصان ہوگا اور کامیابی بہت جلد حاصل ہوگی۔